لاہور (رپورٹنگ آن لائن) سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ جمہوریت میں احتجاج، دھرنا اور جلوس سیاسی جماعتوں کا جمہوری حق ہے تاہم احتجاج پرامن ہونا چاہیے اور اس کے نتیجے میں کاروبار زندگی متاثر نہیں ہونا چاہیے، تمام فریقین کو ٹھنڈے دل سے فیصلے کرنے چاہئیں جبکہ پارلیمان ہی وہ فورم ہے جہاں تمام معاملات پر اطمینان کے ساتھ اپنا موقف پیش کیا جا سکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز رانا سفاری پارک پھولنگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی، سینئر نائب صدر رانا فاروق سعید، سیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ، ثمینہ خالد گھرکی سمیت دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آج چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ ہے جسے پارٹی کارکنان اور رہنما مل کر منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام سے پاکستان پیپلز پارٹی کا رانا شوکت کی وجہ سے ایک عظیم اور تاریخی رشتہ وابستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے ہر ضلع میں پاکستان پیپلز پارٹی کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے اور پارٹی بلدیاتی انتخابات کی بھرپور تیاری کر رہی ہے۔ پنجاب کے عوام ہماری اصل طاقت ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت پر یقین رکھنے والی جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی سبق ہمیں صدر آصف علی زرداری نے دیا ہے کہ جمہوری اقدار کو مضبوط بنایا جائے اور عوامی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ جمہوریت میں احتجاج، دھرنا اور جلوس سیاسی جماعتوں کا جمہوری حق ہے اور کسی کو اس حق پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے تاہم دھرنے اور احتجاج کے ذریعے متعلقہ فریق کا موقف سامنے آنا چاہیے اور اس دوران کاروبار زندگی متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پارلیمان وہ فورم ہے جہاں اطمینان کے ساتھ اپنا موقف بیان کیا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ اگر کوئی جماعت سڑکوں پر احتجاج کرتی ہے تو اسے پرامن ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہر فریق کی رائے سامنے آنی چاہیے، تاہم اختلاف رائے کو پرامن انداز میں پیش کیا جائے۔ پارلیمان ہی آخری اور مناسب فورم ہے جہاں معاملات کی واضح تصویر سامنے آ سکتی ہے۔ کسی کی رائے کو دوسروں پر مسلط نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی کسی رائے کو یکسر مسترد کرنا چاہیے بلکہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جانے چاہئیں۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث دنیا کی معیشتیں متاثر ہوئی ہیں۔ پاکستان تیل درآمد کرتا ہے اس لیے عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کی صورت میں اسے مہنگا خرید کر سستا فراہم کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات خوش آئند ہیں تاہم جہاں حکومت غلطی کرے وہاں تنقید بھی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں جذبات کے بجائے زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر بات کرنی چاہیے۔ اسلام آباد کو سومنات بنانے کی بات افسوسناک ہے، ایسے معاملات میں جذبات کے بجائے تحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ ضروری ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت پاکستان کا ہر خطہ ہمارا ہے اور تمام علاقوں کے عوام ہمارے اپنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ماضی میں بھی لانگ مارچ کیے ہیں اور ان کے اثرات بھی برداشت کیے ہیں تاہم حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ حالات خراب ہوں،
اس لیے تمام فریقین کو ٹھنڈے دل سے فیصلے کرنے چاہئیں اور ملک کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان کو درپیش مسائل ہمارے وسائل سے زیادہ ہیں، اس لیے ہمیں اپنے وسائل میں اضافے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عزم اور جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا ہے، کسی احساس کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ عام آدمی کی بات کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی عام آدمی کے حقوق اور مسائل کی آواز بلند کرتی رہے گی۔









