لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے آڈیٹر جنرل کی جانب سے مالی سال 2024ـ25 کے حکومتی اکاؤنٹس سے متعلق جاری کردہ رپورٹس میں سامنے آنے والی سنگین مالی بے ضابطگیوں اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کرپشن پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انکشافات حکومت کی مالی بدانتظامی، نااہلی اور کرپشن کا واضح ثبوت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رپورٹس کے مطابق 3177 ارب روپے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر خرچ کیے گئے، جبکہ 3454 ارب روپے کی مجموعی ضمنی گرانٹس حاصل کرنے کے باوجود 92 فیصد رقم کو پارلیمنٹ سے منظوری نہیں مل سکی، جو آئینی اور جمہوری اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ وفاقی اداروں میں فنکشنل انٹرنل آڈٹ یونٹس کا نہ ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت مالیاتی نظم و ضبط اور شفافیت کے بنیادی تقاضے پورے کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ جب اداروں کے اندر مؤثر نگرانی کا نظام موجود نہ ہو تو بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹس کے مطابق بھاری رقوم طلب کرنے کے باوجود 115 وفاقی ادارے 87 ارب روپے استعمال نہ کر سکے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اہم سرکاری عہدوں پر ایسے افراد براجمان ہیں جو نہ صرف نااہل ہیں بلکہ قومی وسائل کے درست استعمال کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ دوسری جانب وفاقی اداروں نے 3809 ارب روپے کے بجٹ مطالبات پیش کیے لیکن ان مطالبات کے لیے حقیقی ضرورت اور زمینی حقائق کا جائزہ تک نہیں لیا گیا، جس سے بجٹ سازی کے پورے عمل کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی بحران، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور قرضوں کے بوجھ کے باوجود حکمران طبقہ قومی خزانے کے ساتھ غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
عوام سے ٹیکسوں کی مد میں اربوں روپے وصول کیے جاتے ہیں لیکن ان رقوم کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ تمام مالی بے ضابطگیوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے عناصر کا بلاامتیاز احتساب کیا جائے۔محمد جاوید قصوری نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ، عدلیہ اور متعلقہ احتسابی ادارے آڈیٹر جنرل کی رپورٹس میں سامنے آنے والے انکشافات کا فوری نوٹس لیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک پر ایسے لوگ مسلط ہو چکے ہیں جو نااہلی، کرپشن اور مختلف مافیاز کے گٹھ جوڑ کے ذریعے قومی وسائل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے تحفظ، شفاف حکمرانی اور کرپشن کے خاتمے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔








