کراچی(رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ 14 اگست یومِ آزادی کے ساتھ تجدیدِ عہد کا بھی دن ہے، آج پاکستان آزادی کے 79 سال مکمل کرکے 80ویں سال میں داخل ہورہا ہے، آزادی کی تین نسلیں گزرنے کے باوجود پاکستان کے قیام کا مقصد اور نظریہ آج بھی ہماری تکمیلِ جدوجہد کا منتظر ہے۔
پاکستان محض ایک خطے کا نام نہیں بلکہ ایک نظریے اور عظیم مقصد کا نام ہے، لیکن آج ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا اعتماد کا فقدان، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ سمیت مختلف صوبوں میں پائی جانے والی بے چینی اور مایوسی، امن، روزگار، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل اور عوام پر پٹرولیم لیوی سمیت مختلف ٹیکسوں کا مسلسل بوجھ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ یومِ آزادی پر محض جشن نہیں بلکہ اپنے قومی مقاصد اور ذمہ داریوں کا بھی جائزہ لیا جائے۔ پاکستان چند طبقات کی اجارہ داری اور آئین کی بالادستی سے محرومی کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسی اسلامی، فلاحی اور خودمختار ریاست کے قیام کے لیے حاصل کیا گیا تھا جہاں عوام کو امن، انصاف، تحفظ اور بنیادی حقوق میسر ہوں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پاکستان کو اس کے حقیقی نظریے کے مطابق بنانے کے عزم کی تجدید کریں اور اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد کو مزید آگے بڑھائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں 79ویں یوم آزادی کے سلسلے میں پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔قبل ازیں منعم ظفر خان نے ادارہ نور حق میں پرچم کشائی کی، جس کے بعد قومی ترانہ پڑھا گیا۔ تقریب میں معاون خصوصی امیر کراچی برجیس احمد ،نائب امراء جماعت اسلامی کراچی مسلم پرویز، راجا عارف سلطان ،ڈپٹی سیکرٹریز راشد قریشی اور یونس بارائی، ٹاؤن چیئرمین جناح رضوان عبدالسمیع، جماعت اسلامی منارٹی ونگ کراچی کے صدر یونس سوہن خان ایڈووکیٹ، سیکرٹری سیموئیل نذیر، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات صہیب احمد اور دیگر بھی موجود تھے۔
دریں اثناء امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفرخان نے جمعرات کی شب وطن عزیز کے 80ویں یوم آزادی کے سلسلے میں نیو کراچی ٹاؤن کے تحت نارتھ کراچی پاور ہاؤس چورنگی پر تقریب پرچم کشائی اورجماعت اسلامی علاقہ گلستانِ جوہر کے تحت جوہر پارک بلاک 2 میں آزادی فیسٹ 2026 کی تقریبات سے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر امیرضلع شرقی نعیم اختر ،امیر ضلع شمالی طارق مجتبیٰ ،ٹاؤن چیئرمین نیو کراچی محمد یوسف،وائس ٹاؤن چیئرمین شعیب بن ظہیر و دیگر بھی موجود تھے۔ منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ مسلم لیگ کے اجلاس میں علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا اور 23 مارچ 1940ء کو قراردادِ پاکستان کے ذریعے دو قومی نظریے کی بنیاد پر اس خواب کی تکمیل کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
برصغیر کی ملت اسلامیہ نے کلمہ طیبہ کی بنیاد پر عظیم جدوجہد کی اور قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں 14 اگست 1947ء کو پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں سے مالا مال ہے، لیکن 1948ء میں قائداعظم کے انتقال کے بعد ملک گوروں کی غلامی سے نکل کر جاگیرداروں، وڈیروں، خان خوانین اور اشرافیہ کی گرفت میں آگیا۔
قومی اتحاد اور برکت کے فقدان کے باعث پاکستان دولخت ہوا اور ہمارا مشرقی بازو ہم سے جدا ہوگیا۔امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ آج یوم آزادی کے موقع پر ہمیں اس عزم کی تجدید کرنا ہوگی کہ پاکستان کو اس کے حقیقی نظریے اور مقاصد کے مطابق ایک اسلامی، فلاحی اور بااصول ریاست بنانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ جب بھی قوم نے ایمان، اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا، اسے کامیابی حاصل ہوئی۔ ہمیں اپنی صلاحیتیں وطن عزیز کے لیے صرف کرنے اور پاکستان کی ترقی و استحکام کے لیے کردار ادا کرنے کا عہد کرنا ہوگا۔









