احسن اقبال 21

ہم نے پی ٹی آئی کے دور کی فسطائیت اور جمہوریت کا چہرہ دیکھا ہے، احسن اقبال

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہم نے پی ٹی آئی کے دور کی فسطائیت اور جمہوریت کا چہرہ دیکھا ہے، اس وقت ایوان میں گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈر نہیں جاری کئے جاتے تھے، ایوان میں روز مرہ کا ایجنڈا بھی ڈکٹیشن لے کر لایا جاتا تھا۔

اتوار کو قومی اسمبلی میں سابق سپیکر اسد قیصر کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ہم بجٹ پر تقریر کررہے ہیں یہاں ہمیں حقائق پر بات کرنی چاہئے، غلط بیانی سے گریز کرنا چاہئے۔ ہم نے پی ٹی آئی کے دور میں جمہوریت دیکھی ہے جب اس ایوان کے گرفتار اراکین کے پروڈکشن آرڈر کے اجرا کیلئے ہم سپیکر چیمبر میں جا کر منتیں کرتے تھے تاہم پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوتے تھے، ہم نے ان کے دور میں پارلیمنٹ کی آزادی بھی دیکھی ہے جب ایک شخص یہاں پر تحریک التوا کا فیصلہ بھی کرتا تھا، آرڈر آف ڈے بھی ان کی مرضی سے بنایا جاتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ عدلیہ کی آزادی کی بات کرتے ہیں جبکہ ان کے دور میں پنجاب میں مقامی حکومتوں کو بحال کیا گیا تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے پر 9 ماہ تک عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ ان کے دور میں نوازشریف، شہباز شریف، مریم نواز، خواجہ آصف، سعد رفیق، حمزہ شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ سمیت دیگر رہنمائوں نے جیل کاٹی، ان کے دور میں اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ لگایا گیا، ان کی فسطائیت اور جمہوریت کا چہرہ سب نے دیکھا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ اسد قیصر کے حلقے صوابی میں یونیورسٹی کا تحفہ ہم نے دیا تھا اور اس یونیورسٹی کا سنگ بنیاد میں نے اپنے ہاتھوں سے رکھا تھا۔ قبل ازیں سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ بجٹ حکومت کا نہیں آئی ایم ایف کا ہے،اس وقت معیشت سکڑ رہی ہے،اپنے اپنے ادوار کی اصلاحات پر یہاں مباحثہ کے لئے تیار ہیں، ہم نے شوگر مافیا پر ہاتھ ڈالا۔

انہوں نے کہا کہ میثاق معیشت پر ہم بات کرنے پر تیار ہیں،آئیں مل بیٹھ کر سب کے لئے قابل قبول الیکشن کمیشن قائم کریں،ہم عدلیہ کی آزادی اور پارلیمان کی مضبوطی کے حق میں ہیں۔اس کے لئے آئیں سب مل بیٹھیں۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو کا 70 فیصد ہمارے علاقہ میں پیدا ہوتا ہے۔ کشمیر میں جو صورتحال ہے اس کا حل مذاکرات ہیں،تربیلہ ڈیم سے 6418 میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے پورے صوبہ کی 33 سو میگاواٹ ہے۔ہمارے علاقے میں 12،12 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔جہاں سے بجلی پیدا ہوتی ہے وہاں کے لوگوں کا پہلا حق ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ آزاد اور عوام کی نمائندہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں