ہائیکورٹ 16

ہائیکورٹ نے قتل کی پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہ ہونے پر ملزم کی عمر قید کی سزا ختم کر دی

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے قتل کی پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہ ہونے پر ملزم کی عمر قید کی سزا ختم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب سینٹینسنگ ایکٹ میں عدالتی صوابدید کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے ترامیم کی جائیں۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد رفیق نے اہم عدالتی فیصلہ سنایا ۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پنجاب سینٹینسنگ ایکٹ 2019 کا اطلاق ایسے مقدمات پر نہیں ہوتا جن میں سزائے موت مقرر ہو، عدالت نے پنجاب حکومت کو قتل کے مقدمات میں سزا کے تعین سے متعلق قانونی اصلاحات پر غور کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب سینٹینسنگ ایکٹ میں عدالتی صوابدید کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے ترامیم کی جائیں۔ عدالت نے سزا مقرر کرنے سے پہلے ملزم کو الگ سماعت کا موقع دینے کی اہمیت پر زوردیتے ہوئے ملزم کی سزا دفعہ 302ب سے تبدیل کرکے دفعہ 302 سی تعزیرات پاکستان کے تحت کردی۔عدالت نے ملزم کی سزا پہلے سے کاٹی گئی قید کی مدت تک محدود کرتے ہوئے کہا کہ ملزم 12 سال، 11 ماہ اور 2 دن قید کاٹ چکا ہے۔

عدالت نے ملزم کی جیل اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے کہا کہ قتل کی باقاعدہ سازش یا پیشگی منصوبہ بندی کے ٹھوس شواہد نہیں ملے، لڑکوں کے دو گروپوں میں رقابت کی بنیاد پر قتل کو پہلے سے طے شدہ منصوبہ قرار نہیں دیا جاسکتا، ملزم نے اچانک تصادم کے دوران ہاکی کا ایک وار کیا، چشم دید گواہوں کی شہادت طبی شواہد سے مطابقت رکھتی ہے، مقتول کے سر پر ہاکی کا وار جان لیوا ثابت ہوا۔لاہور ہائیکورٹ نے مقتول کے ورثا ء کو 5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم برقرار رکھا۔ معاوضہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم کو مزید 6 ماہ قید کاٹنا ہوگی۔لاہور ہائیکورٹ نے سزا میں ترمیم کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا ریکارڈ واپس بھجوانے کا حکم دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں