فیصل کریم کنڈی 38

گورنر خیبرپختونخوا فیصل نے 19اپریل کو مردان میں پی ٹی آئی کے جلسے کو بلاجواز قرار دیا

صوابی(رپورٹنگ آن لائن)گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے 19اپریل کو مردان میں پی ٹی آئی کے جلسے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں عام انتخابات کی سرگرمیاں نہیں ہے، عالمی سطح پر مختلف ممالک کے وفود بزنس اور تجارت کی غرض سے پاکستان آرہے ہیں یا پاکستان سے وفود باہر ممالک جارہے ہیں تو پی ٹی آئی کی جانب سے اس جلسے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے اگر قیادت کا مقصد بانی کی رہائی ہو تو سرکاری فنڈز ،وسائل ، رمضان المبارک پیکیج میں لوٹ کھسوٹ، صوبائی حکومت ، پٹواریوں اور سرکاری ملازمین کے ذریعے احتجاج اور دھرنے کی بجائے عدالت جاکر قانونی طور پر جنگ لڑیں ۔

دورہ صوابی کے موقع پر کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک پاکستان کی نہ صرف تعریفیں کررہا تھا بلکہ یہاں پاکستان میں بزنس کرنا چاہتے تھے جب کہ دس اپریل کو امریکہ اور ایران کے وفود مزاکرات کے لیے اسلام آباد آرہے تھے تو پی ٹی آئی والے اس سے قبل 9اپریل کو جلسے کا انعقاد کررہاتھا ۔انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران پہلا دورہ نہیں ہے ، اس کے پیچھے بہت سے چیزیں ہیں اگر ایک سال پیچھے دیکھا جائے کہ پاکستان نے جس طرح بھارت کو تاریخی شکست دی تھی اور دنیا کو یہ بتایا گیا کہ تمام ممالک میں پاکستان کی فوج انتہائی طاقتور ، مضبوط اور کتنی باصلاحیت فوج ہے اس کے بعد ہم نے ڈیوکریسی شروع کردی میں سمجھتا ہوں کہ اس میں سفارتکاری ہوئی صدر آصف علی زرداری خود ایران گئے ،

بلاول بھٹو زرداری وفود کے ساتھ مختلف ممالک کا دورہ کیا اسی طرح فیلڈ مارشل عاصم منیر مختلف ممالک کا دورہ کرنے کے بعد وزیر داخلہ کے ہمراہ دورہ ایران پر ہیں جبکہ وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کا دورہ مکمل کرنے کے بعد قطر اور ترکی کے دورے پر ہیں روٹین کے مطابق وفود پاکستان آرہے ہیں یا پاکستان سے جارہے ہیں ، جب خطے میں امریکہ اور ایران کی جنگ شروع ہوئی تو پاکستان نے اس عالمی جنگ کو روکنے اور امن لانے کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑا کردار ادا کیا پہلے ان سیاسی مخالفین اور تجزیہ کاروں کو جو کہہ رہے تھے اور ہر کوئی نقشہ بنا رہے تھے کہ پاکستان میں امریکی ایئربیس اور اڈے ہیں، کو جواب مل گیا کہ پاکستان میں یو ایس کی کوئی ائیر بیس یا اڈہ نہیں ہے ،

دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور معاملات درست سمت لے جانے کے لیے پاکستان کی حکومت اور سیاسی جماعتوں نے فوج کے ساتھ مل کر سفارتکاری کے ذریعے ملک کی ساکھ کو بحال رکھا اور 49سال بعد سفارت کاری کے نتیجے میں پاکستان اور پاک فوج نے امریکہ نائب صدر اور ایران کی اعلیٰ قیادت پر مشتمل وفود کو ایک چھت کے نیچے ایک کمرے میں آمنے سامنے مزاکرات کے میز پر بٹھا کر فیصلہ کریں اور اس کا اعتماد عالمی دنیا نے صرف پاکستان پر کیا ، جس کی وجہ سے آج پاکستان عالمی سطح پر ایک بڑا اہمیت حاصل کر چکا ہے ہمیں اس لئے پاکستان کو اس اہمیت سے بزنس اور دیگر شعبوں میں فائدہ اٹھانا چاہیے ۔

انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت صوبے میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے ، تمباکو رائلٹی اور این ایف سی سمیت دیگر حقوق کے حصول کے لیے اسلام آباد میں کوئی مقدمہ نہیں لڑ رہا ہے ، صوبہ وفاق سے ائیسکو ، پیسکو اور انرجی کے دیگر منصوبے خرید کر خود چلا کر عوام کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلا دیں ویسے صوابی سمیت پورے صوبے میں سڑکیں ، پلیں اور دیگر منصوبے مکمل نہ ہو سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں