بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)2025 کی تیسری سہ ماہی کے لیے امریکی فیڈرل ریزرو کے اعداد و شمار کے مطابق، 1 فیصد امریکی گھرانے ملک کی ایک تہائی سے زیادہ دولت پر قابض ہیں، جو کہ نچلی سطح کی آبادی کی 90 فیصد کی کل دولت کے برابر ہے۔ یہ اعداد و شمار روایتی ترقیاتی ماڈل کی خامیوں کی عکاسی کرتے ہیں: سرمایہ چند لوگوں کے ہاتھوں میں مرکوز ہے، جس سے عام لوگوں کے لیے ترقی کے فوائد کا اشتراک مشکل ہو جاتا ہے۔ اینٹی گلوبلائزیشن اور تکنیکی ناکہ بندی شدت اختیار کر رہی ہے، اور گلوبل گورننس کا نظام پیچیدگی اور عدم توازن کا شکار ہو رہا ہے۔
2015 میں، چینی صدر شی جن پھنگ نے ایک نئے ترقیاتی تصور کے تحت چین کی ترقی کو آگے بڑھانے کی تجویز پیش کی، جس کا بنیادی اصول جدت، ہم آہنگی، سبز ترقی، کھلا پن اور اشتراک ہے۔ اس کے بعد سے ،یہ نیا ترقیاتی تصور چین کے ہر پانچ سالہ منصوبے میں شامل کیا گیا اور اس پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اس تصور کو “چین کی جدیدیت کے مجموعی منظرنامے سے وابستہ گہری تبدیلی” کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
“نئے” ترقیاتی تصورکا مظہر سب سے پہلے اس کے نقطہ نظر میں ہے۔ روایتی ترقی عموماً جی ڈی پی کی نمو کے اعداد و شمار پر مرکوز ہوتی ہے، جبکہ نیا ترقیاتی تصورمربوط انداز میں پانچ جہتوں میں کام کرتا ہے، یعنی جدت، ہم آہنگی، سبز ترقی، کھلا پن، اور اشتراک۔ جس سے ترقی میں ساختی تضادات کو منظم طریقے سے حل کیا جاتا ہے۔
روایتی ماڈل مغرب کے اس راستے پر چلتا ہے جس میں پہلے آلودگی اور بعد میں اس کے تدارک کی کوشش کی جاتی ہے،” جبکہ نئے ترقیاتی تصور نے ترقی کی محرک قوت کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے، یعنی وسائل پر مبنی ترقی جدت پر مبنی ترقی میں تبدیل ہو گئی۔ 2012 سے، گلوبل انوویشن انڈیکس میں چین کی درجہ بندی دنیا میں34 ویں سے بڑھ کر 10 ویں نمبر پر آ گئی ہے۔
روایتی ترقی کا مقصد اکثر چند لوگوں کے لیے دولت جمع کرنا ہوتا ہے، جب کہ ترقی کا نیا تصورعوام پر مبنی نقطہ نظر پر عمل پیرا ہوتا ہے، جس کا مقصد تمام لوگوں کو ترقی کے ثمرات بانٹنے کے قابل بنانا اور بتدریج مشترکہ خوشحالی حاصل کرنا ہے۔ اس وقت چین میں بنیادی طبی بیمہ سے مستفید ہونے والوں کی تعداد 1.3 ارب سے تجاوز کر چکی ہے، پنشن بیمہ تقریباً 1.1 ارب افراد کا احاطہ کرتا ہے ، اور اوسط عمر بھی بڑھ کر 79 سال تک پہنچ گئی ہے ۔
نئے ترقیاتی تصور کی رہنمائی میں، چین ترقی کے ایک ایسے راستے پر گامزن ہے جو روایتی ماڈلز سے بالاتر ہے، جو زیادہ منظم انداز، زیادہ پائیدار راہ، اور زیادہ منصفانہ ہدف کے ساتھ ہے۔ یہ نہ صرف ترقی کی منطق کو نئی شکل دیتا ہے بلکہ دنیا کو ترقی کا ایک نیا انتخاب بھی فراہم کرتا ہے۔









