کراچی (رپورٹنگ آن لائن) صوبائی وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی تا روہڑی 480 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کا منصوبہ سندھ کے لیے انتہائی اہم ہے، تاہم سکھر حیدرآباد موٹروے بھی صوبے کے لیے اتنا ہی اہم منصوبہ ہے، وفاقی حکومت کو دونوں منصوبوں پر یکساں ترجیح کے ساتھ عملی پیش رفت یقینی بنانی چاہیے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ کے بڑے شہروں، صنعتی مراکز اور تجارتی علاقوں کے درمیان بہتر سڑک رابطے صوبے کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ حیدرآباد سکھر موٹروے کی تعمیر سے نہ صرف سفری سہولیات میں بہتری آئے گی بلکہ کاروباری سرگرمیوں، تجارت، زراعت اور صنعت کو بھی فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ کراچی تا روہڑی ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن ایک اہم قومی اور صوبائی منصوبہ ہے، جس کے ساتھ سکھر حیدرآباد موٹروے پر بھی عملی پیش رفت ضروری ہے۔
سندھ کے عوام طویل عرصے سے اس موٹروے کے منتظر ہیں، اس لیے منصوبے کے حوالے سے محض اعلانات کے بجائے واضح اقدامات کیے جانے چاہئیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ حیدرآباد سکھر موٹروے سندھ کے اندرونی علاقوں کو بڑے شہروں اور تجارتی مراکز سے بہتر انداز میں منسلک کرنے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ منصوبے کی تکمیل سے مسافروں کے لیے سفر آسان اور محفوظ ہوگا، جبکہ سامان کی ترسیل میں وقت اور اخراجات میں کمی آئے گی۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بڑے روڈ منصوبے صرف سفری سہولت تک محدود نہیں ہوتے بلکہ یہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے، تجارت بڑھانے، زرعی پیداوار کو منڈیوں تک پہنچانے اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ بنتے ہیں۔
سکھر، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر علاقوں کے درمیان بہتر رابطہ صوبے کی مجموعی معاشی سرگرمیوں کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ سندھ کے اہم روڈ اور ریلوے منصوبوں کو یکساں ترجیح دی جائے اور حیدرآباد سکھر موٹروے کے معاملے پر سندھ کے عوام کو واضح ٹائم لائن فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے ٹریک کی تعمیر و اپ گریڈیشن کے ساتھ موٹروے منصوبے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر رابطہ ضروری ہے تاکہ سندھ کے عوام کو بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد مل سکیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وفاقی حکومت حیدرآباد سکھر موٹروے کے حوالے سے عملی اقدامات تیز کرے گی اور منصوبے کی تکمیل کے لیے واضح لائحہ عمل سامنے لائے گی۔









