وانگ ای 14

ڈنمارک چین کے ساتھ جامع اسٹرٹیجک شراکت داری قائم کرنے والا پہلا شمالی یورپی ملک ہے، چینی وزیر خا رجہ

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے کوپن ہیگن میں ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لو کے راسموسن سے ملاقات کی۔

جمعہ کے روز وانگ ای نے کہا کہ ڈنمارک چین کے ساتھ جامع اسٹرٹیجک شراکت داری قائم کرنے والا پہلا شمالی یورپی ملک ہے ، اور چین ڈنمارک کا ایشیا میں سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ چین ڈنمارک کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعاون کو مزید بڑھانے کا خواہاں ہے اور ڈنمارک کےسا تھ سبز تعاون کی قیادت میں، سائنسی تحقیق و اختراع، گرین شپنگ، صحت کی دیکھ بھال سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو گہرا کر نے ، تعلیم، ثقافت، سیاحت، نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے شعبوں میں تبادلوں کو وسیع کرنے کے لیے تیار ہے ۔

انہوں نے کہا کہ چین ڈنمارک کے ون چائنا پالیسی پر قائم رہنے کو سراہتا ہے اور ڈنمارک کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں اس کی حمایت کرتا ہے ۔ وانگ ای نے کہا کہ چین اور یورپ شراکت دار ہیں، حریف نہیں،اس لیے تعاون چین-یورپ تعلقات کی بنیادی خصوصیت اور مرکزی نکتہ ہونا چاہیے۔ امید ہے کہ ڈنمارک یورپ-چین تعلقات کی صحت مند اور مستحکم ترقی کے لیے تعمیری کردار ادا کرے گا۔

راسموسن نے کہا کہ موجودہ دو طرفہ تعلقات مضبوط اور مستحکم ہیں۔ ڈنمارک ہمیشہ ون چائنا پالیسی پر قائم رہا ہے، اوراس کی پارلیمنٹ نے بھی اس پالیسی کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈنمارک کی کمپنیاں چین کی ترقی کے امکانات پر، پر اعتماد ہیں اور ان کا ملک طویل مدتی تعلقات قائم رکھنے کا خواہاں ہیں۔

راسموسن کا کہنا تھا کہ ڈنمارک چین کی بطور ایک بڑی طاقت کے کردار کو اہمیت دیتا ہے اور اقوام متحدہ جیسے پلیٹ فارمز پر مل کر کثیرالجہتی پر مبنی اقدار کی حفاظت اور آزادانہ تجارت کے تحفظ کے لیے تعاون کا خواہاں ہے۔ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ڈنمارک یورپ-چین مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے میں بھی مثبت کردار ادا کرنا چاہتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں