چین 12

چینی ٹیکنالوجی فٹبال کے عالمی ایونٹ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے، چینی میڈیا

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین کی مردوں کی قومی فٹ بال ٹیم کی کارکردگی طویل عرصے سے اربوں شائقین کے لیے ایک دردناک موضوع رہی ہے، اور ورلڈ کپ میں ہر ناکامی کے بعد اسے شدیدتنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔تاہم، دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے ایونٹ کے لیے چین کی دلچسپی اور جوش کبھی کم نہیں ہوا۔

کروڑوں شائقین کی گرمجوشی سے لے کر میدان کے اندر اور باہر “میڈ ان چائنا” کی بھرمار ، اور اب میدان میں چینی ریفریز کی موجودگی تک، چینی عناصر پہلے ہی اس ایونٹ کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔تاہم، 2026 کے امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے ورلڈ کپ میں، چین کی شرکت کا ایک نیا اور اہم پہلو مرکزی نقطہ بن رہا ہے، اور وہ ہے چینی ٹیکنالوجی۔ فٹبال کے اس عالمی ایونٹ میں دنیا کی سب سے بڑی اے آئی انفراسٹرکچر کمپنیوں میں سے ایک، لینوو (Lenovo)​ نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔

فیفا کے مطابق موجودہ ورلڈ کپ تاریخ کا پہلا “مکمل طور پر اے آئی سے مربوط” کھیلوں کا ایونٹ ہے، اور بطور “آفیشل ٹیکنالوجی پارٹنر” چینی ٹیک کمپنی لینوو نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، اس بار ایونٹ میں حاصل ہونے والے ڈیٹا کا حجم 90 پیٹا بائٹس (PB) تک پہنچ گیا ہے، جو گزشتہ قطر ورلڈ کپ کے مقابلے میں 45 گنا زیادہ ہے۔ اس وسیع ڈیٹا کو سنبھالنے کے لیے لینوو کا تیار کردہ اے آئی پلیٹ فارم استعمال کیا جا رہاہے۔

فیفا اور لینوو کے اشتراک سے تیار کردہ “FIFA AI Pro” ٹیکٹیکل انالیسس اے آئی سسٹم، شریک ٹیموں کی کارکردگی سے متعلق 2000 سے زائد ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کر سکتا ہے،خودکار رپورٹس اور D 3 تصاویر تیار کر سکتا ہے، اور اسے “کلاؤڈ کوچ” کا نام دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، لینوو کا انٹیلی جنس کمانڈ سینٹر (ICC) تین ممالک یعنی امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے 16 شہروں میں ہونے والے مقابلوں کے انتظام کو مربوط بناتا ہے، جبکہ اس کی تیار کردہ ہائی پریسیژن “D 3 ڈیجیٹل اوتار” آفسائیڈ فیصلوں کو ٹی وی ناظرین کے لیے مزید واضح اور شفاف بناتی ہے۔ اس طرح چینی ٹیکنالوجی خاموشی سے عالمی سطح کے اس ایونٹ کی موثر انداز میں کارکردگی کو سہارا دے رہی ہے۔

یہ منظر دراصل چین کی اے آئی صنعت کی بنیادی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں، عوامی بحث اکثر بڑی ٹیک کمپنیوں کی “اے آئی ماڈلز وار” اور ان کی صلاحیت پر مرکوز رہی ہے، جبکہ کچھ کمپنیاں پس منظر میں رہی ہیں جو خاموشی سے اس ٹیکنالوجی کا بنیادی ڈھانچہ بنا رہی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ چینی اے آئی صنعت کی کامیابی صرف جدید ماڈلز کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے بھی ہے کہ لینوو جیسی؂ متعدد کمپنیاں انفراسٹرکچر کی تعمیر اور “فل اسٹیک ڈیلیوری” پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

جب اے آئی کی صنعت انڈسٹری “ٹیکنالوجی کے مظاہرے” سے آگے “عملی افادیت” کی طرف بڑھ رہی ہے، تو مارکیٹ کی توجہ اس بات پر مرکوز ہو گئی ہے کہ کون اے آئی کو مختلف صنعتوں اور شعبوں تک موثر انداز میں پہنچا سکتا ہے ۔ لینوو کی “اینڈ-ایج-کلاؤڈ-نیٹ ورک-انٹیلی جنس” کی صلاحیت نے کمپیوٹنگ پاور سے لے کر اینڈ یوزر ایپلیکیشنز تک موجود خلا کو پُر کیا ہے۔ مالی سال 2025/26 میں، لینوو کی اے آئی سے متعلق آمدنی دگنی ہو گئی اور اس کے اے آئی سرورز کی فروخت کی رفتار بھی تمام کمپنیوں کو پیچھے چھوڑ گئی۔ یہ نہ صرف انفراسٹرکچر کی بڑھتی ہوئی طلب کا ثبوت ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ چین کی اے آئی انڈسٹری ایک مضبوط تجارتی نظام (Business Loop) تشکیل دے رہی ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اے آئی بنیادی طور پر کسی ایک پروڈکٹ کی فتح کا نام نہیں بلکہ چپس، کمپیوٹنگ پاور، ماڈلز، اینڈ پوائنٹس اور ایپلیکیشنز پر مشتمل ایک تعاون کا نظام ہے۔ این ویڈیا (Nvidia) کے بانی جینسن ہوانگ نے کہا تھا کہ : ” 2026 لینوو کا سال ہے”۔ ان کی نظر میں لینوو “ہائبرڈ اے آئی” کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

چینی اے آئی کی اصل طاقت اسی ہم آہنگ صنعتی نظام میں پوشیدہ ہے۔ ورلڈ کپ کے میدانوں سے لے کر فیکٹریوں کی پیداوار تک، چین ایک متوازن، مضبوط اور متنوع اے آئی ایکو سسٹم بنا رہا ہے۔ جب دنیا ورلڈ کپ کے پسِ منظر میں موجود “چینی ٹیکنالوجی کے ڈھانچے” کو دیکھتی ہے، تو یہ یقین مزید مضبوط ہوتا ہے کہ یہی ماڈل مستقبل میں دیگر شعبوں تک بھی پھیلے گا اور اے آئی محض ایک تکنیکی مظاہرہ نہیں بلکہ معاشی اور سماجی ترقی کی ایک نئی معیاری پیداواری قوت بن جائےگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں