چائنا 15

چینی صدر کے اہم مضمون “تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور افرادی صلاحیتوں کی مربوط ترقی” کی اشاعت

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری، چین کے صدر اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین شی جن پھنگ کا اہم مضمون “تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور افرادی صلاحیتوں کی مربوط ترقی” 16 جون کو شائع ہونے والے جریدے چھیوشی کے بارہویں شمارے میں شائع ہوگا۔

یہ مضمون دسمبر 2012 سے اپریل 2026 تک شی جن پھنگ کی مختلف اہم تقاریر اور بیانات سے منتخب اقتباسات پر مشتمل ہے۔
مضمون میں زور دیا گیا ہے کہ تعلیم کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دینے، سائنس و ٹیکنالوجی میں خود انحصاری اور خود کفالت کو مضبوط بنانے اور افرادی صلاحیتوں کو ترقی کا بنیادی محرک بنانے کی پالیسی پر ثابت قدمی سے عمل کیا جائے۔ اس کے ساتھ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور افرادی صلاحیتوں سے متعلق نظام اور طریقۂ کار میں ہم آہنگ اصلاحات کو آگے بڑھایا جائے تاکہ اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے زیادہ مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ سائنسی اور تکنیکی جدت کا انحصار باصلاحیت افراد پر ہے جبکہ باصلاحیت افراد کی تربیت کا دارومدار تعلیم پر ہوتا ہے۔ اس لیے اعلیٰ تعلیم کے ڈھانچے کو مزید بہتر بنایا جائے اور اعلیٰ درجے کی اختراعی صلاحیتوں کے حامل افراد کی تربیت کے نئے قومی ماڈلز تلاش کیے جائیں۔

مضمون کے مطابق فنی و پیشہ ورانہ تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کو مربوط انداز میں آگے بڑھاتے ہوئے بڑی تعداد میں اعلیٰ معیار کے ہنرمند اور باصلاحیت افراد تیار کیے جائیں اور ایسا تعلیمی ماحول تشکیل دیا جائے جو اختراعی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے سازگار ہو۔

شی جن پھنگ نے مضمون میں اس بات پر بھی زور دیا کہ سائنس و ٹیکنالوجی اولین پیداواری قوت اور بین الاقوامی مسابقت کا بنیادی ذریعہ ہے۔ چین کو قومی سطح کی اسٹریٹجک سائنسی و تکنیکی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے، اختراعی وسائل کی بہتر تقسیم کو یقینی بنانے اور دنیا کے نمایاں سائنسی مراکز اور جدت کے اہم مراکز میں جلد شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔

مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک ایسی تخلیقی افرادی قوت کی تیاری کو تیز کیا جائے جو تعداد میں بڑی، ساخت کے لحاظ سے متوازن اور معیار کے اعتبار سے اعلیٰ ہو، تاکہ چینی طرز جدیدیت اور اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے مضبوط انسانی وسائل فراہم کیے جا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں