واشنگٹن (رپورٹنگ آن لائن) چین کے صدر شی جن پھنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں بات چیت کی۔جمعرات کے روزشی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان تعمیری تزویراتی استحکام پر مبنی تعلقات کی نئی پوزیشننگ دونوں ممالک کے تعلقات کی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے اور مستقبل کے لیے امیدوں کی ترجمانی بھی کرتی ہے۔ یہ دونوں ممالک کے لیے درست طور پر ساتھ رہنے کی راہ پر ایک اہم قدم ہے۔
فریقین کو اس وژن کو عملی شکل دیتے ہوئے چین اور امریکہ کے تعلقات کے لیے مزید مستحکم، صحت مند اور پائیدار مستقبل تشکیل دینا چاہیے۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ چین کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جانا چاہیے۔ چین کشیدگی کم کرنے اور صورتحال کو بہتر بنانے میں تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔ چین تمام فریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ امن کا راستہ اختیار کریں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ چین، امریکہ اور ایران کی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر واپس آنے کی حمایت کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ دونوں فریق جلد از جلد بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے راستے پر واپس آئیں، جوہری مسئلے سمیت ایک جامع معاہدے تک پہنچیں اور خطے میں جلد از جلد امن قائم ہو۔ شی جن پھنگ نے زور دیا کہ چین کا ملک کی وحدت اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے حوالے سے موقف واضح ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ ” تائیوان کی علیحدگی” کی مخالفت کے درست موقف پر قائم رہے گا، تائیوان سے متعلق امور کو احتیاط سے سنبھالے گا اور چین۔امریکہ اسٹریٹجک تعاون اور دوطرفہ تعلقات کی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان تعمیری تزویراتی استحکام پر مبنی تعلقات کی تعمیر نہ تو وقتی حکمتِ عملی ہے اور نہ ہی ایسا کام جو راتوں رات مکمل ہو جائے۔ دونوں ممالک کے تمام متعلقہ محکموں، شعبوں اور ہر سطح پر کام کرنے والے افراد کو آگے آنا ہو گا اور حاصل شدہ اتفاقِ رائے پر ثابت قدمی سے عمل درآمد کرنا ہوگا۔









