بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے عالمی صارفین میں کیے گئے ایک سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ 86.1 فیصد شرکاء کے نزدیک چین کی گرمیوں کی معیشت کی سرگرمیاں محض مقامی صارفین کی موسمی کھپت تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ چین کی وسیع مارکیٹ عالمی معیشت کو نئی توانائی فراہم کر رہی ہے۔
رواں سال چین نے ٹرانزٹ ویزا پالیسی کو مزید مؤثر بنایا، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی سیاحوں کو سفر اور خریداری کی زیادہ آسان اور مؤثر سہولتیں میسر آئیں۔ سروے کے مطابق 89.5 فیصد شرکاء کا کہنا ہے کہ چین ترقی کے ثمرات دنیا کے ساتھ بانٹنے کے لیے کھلے پن کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جبکہ 95.8 فیصد شرکاء کے مطابق چین تیزی سے “دنیا کی فیکٹری” سے “دنیا کی مارکیٹ” میں تبدیل ہو رہا ہے۔
دوسری جانب چین میں تیار کردہ ایئر کنڈیشنرز، پنکھے، آئس میکرز اور گرمیوں میں استعمال ہونے والی دیگر مصنوعات کی بیرونِ ملک مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، یہاں تک کہ بعض مصنوعات کی طلب، رسد سے بھی بڑھ چکی ہے۔ اس حوالے سے 80.1 فیصد شرکاء کا خیال ہے کہ چینی کمپنیاں عالمی موسمی تبدیلیوں اور صارفین کی ضروریات کو بروقت سمجھتے ہوئے اپنی مصنوعات کو تیزی سے اپ ڈیٹ کرتی ہیں، جبکہ 88.2 فیصد شرکاء کے مطابق چین کی گرمیوں کی معیشت عالمی معیشت میں مزید استحکام اور نئی توانائی پیدا کر رہی ہے۔
یہ سروے سی جی ٹی این کے انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی زبانوں کے پلیٹ فارمز پر جاری کیا گیا، جس میں 24 گھنٹوں کے دوران 4,524 صارفین نے حصہ لیا اور اپنی آرا کا اظہار کیا۔









