بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) کیوبا کے صدر نے خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے کیوبا پر عائد ناکہ بندی کے اثرات”انتہائی نازک مرحلے” تک پہنچ چکے ہیں اور یہ نسل کشی کے خطرے کا باعث بن رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی 7 جولائی کو اس معاملے پر خصوصی اجلاس بلائے۔ پیر کے روز چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے یومیہ پریس بریفنگ میں اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ گزشتہ 60 برس سے زائد عرصے سے کیوبا کے خلاف ناکہ بندی اور غیر قانونی پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے، جس کے باعث کیوبا کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں امریکہ نے ناکہ بندی اور پابندیوں کے اقدامات کو مزید سخت کیا ہے، جس سے کیوبا کے عوام کی بنیادی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ چین ہمیشہ ایسے یکطرفہ اقدامات اور غیر قانونی پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے جن کی بین الاقوامی قانون میں کوئی بنیاد موجود نہیں۔ چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ فوری طور پر کیوبا کی ناکہ بندی اور دباؤ کی پالیسی ختم کرے اور کیوبا کے عوام کے حقِ زندگی اور حقِ ترقی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرے۔چین اپنی قومی خودمختاری کے تحفظ میں کیوبا کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے، غیر ملکی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے اور اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر عالمی انصاف اور مساوات کے تحفظ کے لیے کام کرنے کا خواہاں ہے۔









