بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) یو ایس نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) نے امریکی کانگریس کو “2026 انٹرنیشنل فشریز مینجمنٹ امپروومنٹ رپورٹ” پیش کی، جس میں امریکہ کے داخلی قانون کی بنیاد پر یکطرفہ طور پر چین کو “غیر قانونی طور پر ماہی گیری کرنے والا ملک” قرار دیا گیا۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے اس حوالے سے واضح ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی رپورٹ حقائق اور بین الاقوامی قانون کی کوئی بنیاد نہیں رکھتی، اور اس کا مقصد سمندری موضوع کی آڑ میں چین کی سمندری پانیوں میں ماہی گیری کی صنعت کو دبانا ہے، جو کہ سراسر سیاسی جوڑ توڑ کی کوشش ہے۔ ماہی گیری کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے حوالے سے چین اور امریکہ کی اصل کارکردگی کے مقابلے میں امریکہ کی بے بنیاد الزام تراشی، “خود ناپاک ہونے کے باوجود دوسروں کو بدنام کرنے ” کی ایک واضح مثال کے سوا کچھ نہیں۔
چین ہمیشہ سے عالمی ماہی گیری کی حکمرانی میں ایک ذمہ دار شراکت دار رہا ہے، اور اس کے پاس سمندری پانیوں میں ماہی گیری کے لیے قوانین و ضوابط کا ایک مکمل اور منظم نظام پہلے ہی سے موجود ہے ۔ چین نے غیر قانونی ماہی گیری کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رکھی ہے اور 2020 کے اوائل میں ہی سمندری پانیوں میں ماہی گیری کے جہازوں کی پوزیشنز کی حقیقی وقت میں نگرانی کا مکمل نظام قائم کر لیا تھا ۔
اپریل 2025 میں، چین نے باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی قیادت میں پورٹ اسٹیٹ میرز ایگریمنٹ میں شمولیت اختیار کی اور فعال طور پر خود کو دنیا میں اعلی ترین ماہی گیری ریگولیٹری معیارات کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ ماہی گیری کے انتظام کی آٹھ علاقائی تنظیموں میں چین کا ریکارڈ مسلسل دنیا میں سرفہرست رہا ہے۔
اس کے برعکس، امریکہ کی ماہی گیری کی خلاف ورزیوں کی ایک طویل تاریخ ہے، جس کی متعدد مستند بین الاقوامی تنظیموں نے تصدیق کی ہے۔ جنوری 2026 میں، امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کی ماحولیاتی تعاون کی کمیٹی (CEC) نے ایک خصوصی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی، جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ امریکہ کی جانب سے ماہی گیری کے ناکافی انتظام، ماہی گیری کے گیئر میں الجھنے اور بحری جہازوں سے ٹکرانے کے باعث، شدید خطرے سے دوچار شمالی بحر اوقیانوس میں موجود وہیلز کی متعدد اموات واقع ہوئی ہیں۔
یو ایس نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن طویل عرصے سے لازمی حفاظتی اور کنٹرول کے اقدامات کو نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیم اوشیانا سے باقاعدہ شکایت سامنے آئی ہیں۔ علاوہ ازیں، متعدد ممالک کے سمندری قانون نافذ کرنے والے ریکارڈز کے مطابق، امریکی نجی ماہی گیری کے جہازوں نے بار بار دوسرے ممالک کے خصوصی اقتصادی زونز میں داخل ہوکرغیر قانونی طور پر مچھلیاں پکڑیں، جس کے نتیجے میں ان جہازوں کومقامی طور پر روکا گیا اور انھیں جرمانے کا سامنا کرنا پڑا۔
ایسے کیسز بھی سامنے آئے جن میں امریکی بحری بیڑے نے جہاز پرموجود بین الاقوامی مبصرین کی معمول کی جانج پڑتال کو بھی روکا، جس سے بین الاقوامی ماہی گیری کی نگرانی کے میکانزم کو نقصان پہنچا ہے۔ اس طرح کے واقعات علاقائی ماہی گیری کی تنظیموں کے سالانہ جائزے کے ریکارڈ میں متعدد بار سامنے آ چکے ہیں۔
ماہی گیری کی حکمرانی میں امریکہ طویل عرصے واضح دوہرے معیار اپناتا رہا ہے۔ اس سال بین الاقوامی کمیشن برائے اٹلانٹک ٹونا کنزرویشن (ICCAT) کے ایک سرکاری خط میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ امریکہ کا یہ یکطرفہ اعلان کہ تفریحی ماہی گیری کو اس کے قومی کوٹے میں شمار نہیں کیا جائے گا، سالانہ اٹلانٹک بلیو فن ٹونا کیچ کے بین الاقوامی حد سے 22.6 فیصد سے زیادہ ہونے کا باعث بنا ہے، جس سے مچھلیوں کی انواع کے تحفظ کے اہداف بری طرح متاثر ہوئے۔
انٹر امریکن ٹراپیکل ٹونا کمیشن (IATTC) کے سالانہ آڈٹ ریکارڈز یہ بھی بتاتے ہیں کہ امریکی بحری بیڑے طویل عرصے سے وسطی اور مغربی بحرالکاہل کے ماہی گیری کے مرکزی ایریا میں ٹونا فش کو حد سے زیادہ شکار کر رہے ہیں، اور گزشتہ کئی سالوں سے تمام رکن ممالک میں خلاف ورزیوں کی تعداد کے حوالے سے امریکہ پہلے نمبر پر ہے۔
بین الاقوامی پانیوں میں ماہی گیری کے اپنے کوٹے میں بالواسطہ طور اضافہ کرنے کی کوشش میں، امریکہ نے جان بوجھ کر گوام اور امریکن ساموا سمیت اپنے سمندر پار علاقوں کی خصوصی درجہ بندی کی تاکہ وہ ماہی گیری پر پابندی کے متفقہ قوانین سے بچ سکے۔ مغربی اور وسطی بحرالکاہل فشریز کمیشن کی طرف سے امریکہ کے اس عمل کو بار بار تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکہ نہ صرف اب تک سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط کرنے سے انکار کرتا ہے بلکہ اپنے ملکی قانون کو زبردستی بین الاقوامی قانون سے بالاتر رکھتا ہے اور اکثر دوسرے ممالک کی ماہی گیری کی سرگرمیوں میں مداخلت کرتا ہے۔
امریکہ کی طرف سے ہر دو سال بعد جاری کی جانے والی نام نہاد “فشریز امپروومنٹ رپورٹ” طویل عرصے سے سمندری وسائل کے تحفظ کے اپنے اصل مقصد سے ہٹ چکی ہے بلکہ جغرافیائی سیاسی مسابقت اور دوسرے ممالک کی صنعتوں کو دبانے کا آلہ بن چکی ہے۔ این او اے اے ویب سائٹ کی معلومات کے مطابق، ان رپورٹس نے حالیہ برسوں میں چین کی سمندری شپنگ انڈسٹری چین کے خلاف مسلسل رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ امریکہ کا صنعت کے معروضی حقائق کو نظر انداز کرنا اور تجارتی رکاوٹیں پیدا کرنے کی اس کی یکطرفہ کوششیں ماہی گیری کے عالمی تعاون کے نظام کی تباہی کا باعث بنیں گی اور معمول کی سمندری حکمرانی کو متاثر کریں گی۔
کھلے سمندر پوری انسانیت کی ملکیت ہیں، اور سمندری وسائل کا تحفظ کثیرالجہتی تعاون پر انحصار کرتا ہے، نہ کہ یکطرفہ طورپر بدنام کرنے یا بلاک محاذ آرائی پرمبنی ہے۔اپنی توانائی ضائع کرتے ہوئے جھوٹی رپورٹیں بنا کر دوسرے ممالک پر بے بنیاد الزام لگانے کے بجائے، امریکہ کو غیر قانونی ماہی گیری کے اپنے ریکارڈ کا سامنا کرنا چاہیے اور اپنے ہی بیڑے کا انتظام کرنے اور نقصان کے شکار سمندری حیاتیاتی نظام کو بحال کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا چاہیے۔
چین ہمیشہ دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کثیرالجہتی ماہی گیری کے معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے، غیر قانونی ماہی گیری پر مشترکہ طور پر کاری ضرب لگانے اور سمندری وسائل کی پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے پرعزم رہا ہے۔ ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنی سرد جنگ کی ذہنیت اور دوہرے معیار کو ترک کرے، ماہی گیری کے معاملات میں سیاسی جوڑ توڑ کرنا بند کرے، اور برابری کی بنیاد پر مشاورت کے رویے کے ساتھ عالمی سمندری حکمرانی میں حصہ لے۔ یہی بین الاقوامی اتفاق رائے پر عمل کرنے کا درست راستہ ہے۔









