شی جن پھنگ 21

چین امریکہ سربراہان کی ملاقات سے دنیا کی توقعات وابستہ ہیں ، چینی میڈیا

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)چین کے صدر شی جن پھنگ کی دعوت پر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 13 سے 15 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں ۔ یہ دونوں ممالک کے سربراہان کی گزشتہ سال اکتوبر میں بوسان ملاقات کے بعد ایک اور بالمشافہ ملاقات ہے اور ساتھ ہی یہ امریکی صدر کا 9 سال بعد دوبارہ دورہ چین ہے۔اطلاعات کے مطابق دو نوں ممالک کے سربراہان چین اور امریکہ کے تعلقات اور عالمی امن و ترقی کے اہم مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔

عالمی برادری کو بھی توقع ہے کہ چین اور امریکہ کے سربراہان کی ملاقات چین امریکہ تعلقات کو استحکام کی سمت دکھائے گی اور دونوں ممالک کی شراکت دار ی اور دوستی دنیا کو مستحکم توقعات فراہم کرے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ امریکی صدر بنے کے بعد چین اور امریکہ کے سربراہان کے درمیان سات اہم ملاقاتیں اور ٹیلیفونک رابطے ہوئے ہیں ، جس نے چین-امریکہ تعلقات کو مجموعی طور پر مستحکم کرنے میں مدد دی ہے۔ اس وقت، دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور بین الاقوامی صورتحال پیچیدہ اور متغیر ہے۔ اس تناظر میں چین اور امریکہ کے سربراہان کی ملاقات خود دنیا کو استحکام کا پیغام دیتی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ چین اور امریکہ کے تعلقات کو مستحکم رکھنے کے لیے سب سے اہم نکتہ امور تائیوان ہیں ۔ امریکی فریق کو یہ سمجھنا ہو گا کہ تائیوان چین کی سر زمین کا اٹوٹ حصہ ہے، اور چین قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں کسی صورت تائیوان کی علیحدگی کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہو نے دے گا ۔ ساتھ ہی امریکہ کو تائیوان کو اسلحہ کی فروخت کے معاملے میں انتہائی احتیاط برتنا ہو گی ۔

دو بڑی عالمی معیشتوں کے طور پر، چین اور امریکہ کی معیشتیں عالمی معیشت کا تین تہائی سے زیادہ ہیں اور اشیاء کی تجارت عالمی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔ بین الاقوامی برادری توقع کرتی ہے کہ اقتصادی و تجارتی تعاون چین اور امریکہ کے تعلقات میں استحکام اور فروغ اور عالمی معیشت کے لیے اطمینان کا باعث بنے گا ۔

دنیا کو توقع ہے کہ بیجنگ میں ہونے والی چین اور امریکہ کے سربراہان کی ملاقات چین-امریکہ تعلقات میں موجود مشکلات پر قابو پائے گی اور مستحکم ترقی کا آغاز ثابت ہو کر دنیا کو قیمتی استحکام اور یقین فراہم کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں