حلیم عادل شیخ 54

سندھ میں منشیات مافیا کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے، حقیقت سامنے لائی جائے،حلیم عادل شیخ

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ایک عام شہری، سیاسی کارکن یا احتجاج کرنے والے عوام کو ایسی سہولیات میسر نہیں ہوتیں جو ایک منشیات فروش ملزمہ کو دی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تھانے اور عدالت میں جس انداز سے منشیات فروش ملزمہ پنکی کو پروٹوکول فراہم کیا گیا، وہ قانون، انصاف اور پولیس نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکن روزانہ جھوٹے مقدمات اور دہشتگردی کے کیسز میں عدالتوں کے چکر لگاتے ہیں مگر ان کے ساتھ ایسا رویہ کبھی اختیار نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر سندھ پولیس اس مافیا کو کس کے حکم پر سہولتیں فراہم کر رہی ہے۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں، عام شہریوں، نرسز، اساتذہ اور ہیلتھ ورکرز کے احتجاج پر خواتین پولیس اہلکار سخت رویہ اپناتی ہیں، مگر اس معاملے میں ایک خاتون اہلکار بھی ملزمہ کو پکڑتے نظر نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو فوری گرفتار کرلیا جاتا ہے مگر یہاں فوری ریلیف اور خصوصی سہولیات کیوں دی گئیں، یہ سوال عوام کے ذہنوں میں موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر 10 سے 15 سال سے منشیات فروشی کا یہ دھندا جاری تھا تو یہ سب کس کی سرپرستی میں ہوتا رہا؟ سندھ کے نوجوانوں، طلبہ اور شہریوں کو زہر فروخت کیا جاتا رہا جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ 18 سالہ پیپلزپارٹی کی حکومت میں سندھ میں کرپشن، منشیات، جوئے، بھتہ خوری اور اقربا پروری عروج پر پہنچ چکی ہے۔

سندھ پبلک سروس کمیشن سے لے کر منشیات فروشی تک ہر شعبے میں کرپشن اور رشوت کا راج قائم ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ پولیس کو عوام کی حفاظت کے بجائے مخصوص مافیا کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ بڑے افسران اور حکمران اس پورے نظام کے اصل ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گندا ہے پر دھندا ہے کی سیاست نے پورے صوبے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں