سید یوسف رضا گیلانی 18

چیئرمین سینیٹ کا بلوچستان میں قومی یکجہتی، پائیدار امن اور جامع ترقی کے فروغ پر زور

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا محض ایک صوبہ نہیں بلکہ قومی وحدت، خوشحالی، معاشی مستقبل اور قومی سلامتی کا بنیادی ستون ہے، بلوچستان میں دیرپا امن، ہمہ گیر ترقی اور مضبوط وفاق کے قیام کے لیے تمام قومی اداروں اور متعلقہ فریقین کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔

ایوانِ صدر اسلام آباد میں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے ملک بھر سے آئے ہوئے ، سول سرونٹس، سول سوسائٹی، ماہرینِ تعلیم، نوجوانوں اور میڈیا نمائندگان کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ورکشاپ مختلف طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے قومی مکالمے، بین الصوبائی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بلوچستان اپنی طویل ساحلی پٹی، بے پناہ معدنی وسائل اور جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو باہم ملانے والی جغرافیائی حیثیت کے باعث غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی درحقیقت پاکستان کی مجموعی ترقی اور خوشحالی سے وابستہ ہے۔انہوں نے بلوچستان کو درپیش سیکیورٹی، سماجی، معاشی اور انسانی ترقی کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے دہشت گردی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بیرونی سرپرستی میں سرگرم شرپسند عناصر بے گناہ شہریوں اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنا کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی مذموم کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج، فرنٹیئر کور بلوچستان، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جرات، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور مادرِ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو سلام عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پائیدار امن صرف سیکیورٹی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام، خصوصاً نوجوانوں کو تعلیم، روزگار، ہنر مندی، سیاسی شمولیت اور مساوی مواقع فراہم کرکے ہی دیرپا استحکام اور ترقی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا اعتماد حاصل کرنا امن اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ کا حوالہ دیتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان کے لیے کیے گئے اہم اقدامات کا ذکر کیا، جن میں آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج، ساتواں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ، گیس ڈویلپمنٹ سرچارج اور رائلٹی کے بقایاجات کی ادائیگی، وفاقی اداروں اور مسلح افواج میں بلوچ نوجوانوں کی نمائندگی میں اضافہ، اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے مسلسل سیاسی مکالمہ شامل ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق کی علامت اور ایوانِ وفاق کی حیثیت سے سینیٹ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ، وفاق کے استحکام، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور قومی فیصلہ سازی میں تمام صوبوں کی مساوی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرتی رہے گی۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ترقی، امن اور قومی یکجہتی ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مقصد تعلیم، معاشی ترقی، مزدوروں، تعلیمی اداروں اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو نقصان پہنچانا ہے، تاہم بلوچستان کے عوام کے حوصلے، حب الوطنی اور عزم ان تمام سازشوں کو ناکام بنا دیں گے۔

انہوں نے ورکشاپ کے شرکاء پر زور دیا کہ وہ قومی ہم آہنگی، آئینی اقدار اور جمہوری روایات کے سفیر بنیں، ورکشاپ سے حاصل ہونے والے تجربات کو معاشرے میں منتقل کریں، مکالمے کو فروغ دیں، تنوع کا احترام کریں اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں مثبت کردار ادا کریں۔اپنے خطاب کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوان نسل کے ہاتھوں میں محفوظ ہے، جو اپنے وڑن، صلاحیت اور عزم کے ذریعے ایک پرامن، متحد اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کرے گی۔ انہوں نے تمام پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ تقسیم اور انتشار پھیلانے والی قوتوں کے خلاف متحد رہیں کیونکہ قومی یکجہتی ہی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

سوال و جواب کے سیشن میں شرکاء کے مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان ہی ملک کا روشن مستقبل ہیں۔ انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بطور وزیرِاعظم انہوں نے پاکستان میں دو ایوانی پارلیمانی نظام متعارف کرایا اور سینیٹ، یعنی ایوانِ وفاق، قائم کیا تاکہ تمام صوبوں کو مساوی نمائندگی اور ان کے حقوق کا آئینی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

انہوں نے اس تاریخی اقدام کو وفاق کی مضبوطی اور عوامی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک دوراندیش فیصلہ قرار دیا۔ چیئرمین سینیٹ نے پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کی جانب سے بلوچستان اور دنیا میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی سراہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں