لاہور( رپورٹنگ آن لائن)رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی چین کو برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 44.79 فیصد اضافہ دیکھا گیا جس میں ماہانہ بنیادوں پر مسلسل اضافہ اور چین کے مختلف صوبوں میں طلب میں وسعت بھی دیکھی گئی۔اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے مارچ کے دوران پاکستان کی چین کو برآمدات 927 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 640.22 ملین ڈالر تھیں۔
جنوری میں ژجیانگ پاکستان کی برآمدات کے لیے سب سے بڑی منزل رہا جہاں برآمدات 86.7 ملین ڈالر رہیں، اس کے بعد بیجنگ 45.3 ملین ڈالر اور فوجیان 27.4 ملین ڈالر کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ دیگر بڑی منڈیوں میں گوانگ ڈونگ 16.4 ملین ڈالر، ہیبے 13.2 ملین ڈالر اور شینڈونگ 13.1 ملین ڈالرشامل ہیں۔
فروری میں ژجیانگ کو برآمدات بڑھ کر 100.6 ملین ڈالر ہو گئیں، جبکہ بیجنگ میں 64.6 ملین ڈالر اور گوانگ ڈونگ میں نمایاں اضافہ ہو کر 40.0 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔ فوجیان میں برآمدات 35.7 ملین ڈالر رہیں، اس کے بعد گوانگشی 13.7 ملین ڈالراور شینڈونگ 12.1 ملین ڈالررہے۔مارچ میں بھی اضافہ جاری رہا، جہاں ژجیانگ کو برآمدات بڑھ کر 109.2 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں اور یہ بدستور سرفہرست رہا۔ فوجیان اور گوانگ ڈونگ بالترتیب 52.5 ملین اور 51.6 ملین ڈالر کے ساتھ اہم منڈیاں بن کر ابھرے جبکہ بیجنگ کو برآمدات 35.4 ملین ڈالر رہیں۔ شنگھائی، شینڈونگ اور انہوئی کو بھی برآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا جو بالترتیب 20.7 ملین، 20.2 ملین اور 20.1 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔
پاکستانی سرکاری ذرائع نے چائنا اکنامک نیٹ کو بتایا کہ چین کے ساحلی اور معاشی طور پر ترقی یافتہ علاقے پاکستانی برآمدات کے بنیادی مراکز رہے جن میں ژی جیانگ، گوانگ ڈونگ، فوجیان، جیانگسو اور شانڈونگ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اندرونی صوبوں جیسے ہینان، ہونان اور سچوان میں بھی طلب میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا، جو چین میں طلب کے وسیع پھیلا کی عکاسی ہے۔پاکستان کی جانب سے چین کو برآمد کی جانے والی اہم اشیا میں تانبا، سوتی دھاگہ و کپڑا، سمندری خوراک، چاول، تل، زنک و کرومیم کی معدنیات اور لوہے کی دھات شامل ہیں۔









