مریم نواز شریف 12

پنجاب میں اب تک 9 لاکھ کسان کارڈ جاری کیے جا چکے، کسانوں کو 360 ارب روپے کے بلا سود قرضے فراہم کیے گئے ہیں

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)صوبہ پنجاب میں اب تک 9 لاکھ کسان کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ کسانوں کو 360 ارب روپے کے بلا سود قرضے فراہم کیے گئے ہیں۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت محکمہ زراعت کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں کسان کارڈ، زرعی میکنائزیشن اور مختلف جاری منصوبوں پر تفصیلی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبہ میں 9 لاکھ کسان کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ کسانوں کو 360 ارب روپے کے بلا سود قرضے فراہم کیے گئے ہیں، حکام کے مطابق کار ڈ کے تحت جاری کردہ قرضوں کی ریکوری کی شرح 99 فیصد رہی ہے۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ جاری قرضوں کا تقریبا 80 فیصد حصہ کھادوں کی خریداری پر استعمال کیا گیا، جس سے زرعی پیداوار میں بہتری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

وزیر اعلی نے بتایا کہ پنجاب بھر میں تین مراحل کے دوران 34 ہزار گرین ٹریکٹرز تقسیم کیے جا رہے ہیں جبکہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار تین سال کے دوران مجموعی طور پر 50 ہزار ٹریکٹرز فراہم کیے جائیں گے،انہوں نے کہا کہ ٹریکٹرز کی تقسیم کے پورے عمل کو انسانی مداخلت سے پاک کرکے مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا ہے۔ پوزیشن اور سابق فوجی قیادت کا شدید غصہ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ حکومت نے فیلڈ سطح پر 12 ہزار 650 ٹریکٹرز کی جسمانی تصدیق کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ زرعی شعبے کی ترقی کےلئے 3 ہزار ایگری گریجویٹس کو انٹرن شپ پروگرام میں شامل کیا گیا ہے، جن کے ذریعے صوبے کی 12 ملین ایکڑ اراضی پر کسانوں کو توسیعی خدمات فراہم کی گئیں۔

حکام کےکسان کار مطابق انٹرن شپ مکمل کرنے والے 30 فیصد گریجویٹس مستقل ملازمت حاصل کر چکے ہیں جبکہ مجموعی جاب پلیسمنٹ کی شرح 50 فیصد رہی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ انٹرن شپ پروگرام کے اگلے مرحلے میں مزید 1500 زرعی گریجویٹس کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ صوبے بھر میں 10 نئے جدید سہولیات سے آراستہ “ماڈل ایگری مالز” قائم کیے جائیں گے جن کا ڈیزائن منظور کر لیا گیا ہے۔ میکنائزیشن پروگرام کے تحت اب تک 280 جدید زرعی مشینیں کاشتکاروں کو فراہم کی جا چکی ہیں جبکہ جون 2027 تک مجموعی طور پر 2000 جدید مشینیں کسانوں کو دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں