لاہور(رپورٹنگ آن لائن ) لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔پولیس نے انفورسمنٹ انسپکٹر نشتر زون کاشف اسلم کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق چھت پر غفلت اورلاپرواہی کے باعث کام کرنے سے قیمتی جانیں کا ضیاع ہوا، ٹیوشن سینٹر کی چھت پر مرمتی کام جاری تھا، زیادہ وزن پڑنے سے چھت گر گئی، ملبے تلے دب کر 14 بچے جاں بحق ہوئے، چھت گرنے کے حادثے میں خاتون ٹیچر سمیت 7 بچے زخمی ہوئے۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق پولیس نے مکان مالک سمیت 5 افراد کوحراست میں لے رکھا ہے، تفتیش مکمل ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دریں اثنا سانحہ کاہنہ کے بعد پورا علاقہ غم کی تصویر بنا ہوا ہے۔ فضا سوگوار ہے ہر آنکھ اشکبار ہے جبکہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے مزید 2 بچوں کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی۔دونوں بچوں عبداللہ اور ارحم کی نماز جنازہ مقامی جناز گاہ میں ادا کی گئی، نماز جنازہ میں اہل علاقہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔سانحے میں جاں بحق 14 میں سے 11 بچے بچیوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے، گزشتہ رات علی، دعا، ارتضی ، رمشا ، عبداللہ، ایمان فاطمہ اور عروج فاطمہ کے نماز جنازہ ادا کر دی گئی تھی، بد ھ کی صبح ماہ نور اور تسبیح شہزاد کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔گزشتہ رات سات بچوں اور بچیوں کی نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا تھا۔المناک سانحے کے باعث علاقے میں دکانیں اور مارکیٹیں بند ہیں جبکہ سوگ کی کیفیت ہر طرف نمایاں ہے۔نمازِ جنازہ کے موقع پر پولیس نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے ۔
رات بھر پولیس کی بھاری نفری علاقے میں تعینات رہی جبکہ ضلعی انتظامیہ بھی مسلسل متحرک رہی۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقے میں روشنی، صاف اور ٹھنڈے پینے کے پانی، صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی سہولیات کا خصوصی انتظام کیا گیا۔لاشوں کی منتقلی کے لیے شہرِ خموشاں کی گاڑیاں بھی موقع پر موجود رہیں جبکہ ستھرا پنجاب کی ٹیمیں صفائی کے فرائض انجام دیتی رہیں۔دوسری جانب جنرل اسپتال، چلڈرن اسپتال اور تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال میں زخمی خاتون ٹیچر اور بچوں کا علاج جاری ہے۔اسپتال ذرائع کے مطابق وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔
وزیراعلی مریم نواز نے سانحے کے بعد صوبہ بھر کے سرکاری، نجی تعلیمی اداروں اور دیگر نجی عمارتوں کے حفاظتی معیار کا جامع جائزہ لینے کی بھی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے افسوسناک واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔









