لاہور(رپورٹنگ آن لائن )پاکستان کی چاول کی برآمدات کا شعبہ گزشتہ دو سال سے شدید مشکلات کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024 میں ریکارڈ 60لاکھ ٹن چاول برآمد کرکے 3.89ارب ڈالر حاصل کیے گئے تھے تاہم مالی سال 2026ء میں برآمدات کم ہو کر تقریباً 43لاکھ ٹن رہ گئیں جبکہ برآمدی آمدن بھی کم ہو کر 2.3ارب ڈالر تک محدود ہو گئی۔ اس کے برعکس بھارت نے ریکارڈ 2کروڑ 15لاکھ 70ہزار ٹن چاول برآمد کرکے 11.53ارب ڈالر کمائے۔
وزارت تجارت نے مقامی ٹیکسوں اور محصولات کی واپسی کی اسکیم (ڈی ایل ٹی ایل)کے تحت 15ارب روپے مختص کیے تھے۔ برآمد کنندگان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اس مراعاتی اسکیم کے نتیجے میں جون 2026ء تک چاول کی برآمدات میں ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر کا اضافی اضافہ ہوگا۔ ابتدائی طور پر باسمتی چاول پر 9فیصد اور نان باسمتی چاول پر 3 فیصد مراعات مقرر کی گئی تھیں بعد ازاں اسکیم میں 30ستمبر تک توسیع کرتے ہوئے نان باسمتی چاول کے لیے مراعات کی شرح بڑھا کر 5فیصد کر دی گئی۔
چاول کی صنعت کا موقف تھا کہ یہ مراعات اس لیے ضروری ہیں کیونکہ بھارتی باسمتی چاول پاکستان کے مقابلے میں تقریباً 250ڈالر فی ٹن سستا ہے تاہم سبسڈی کے باوجود پاکستانی چاول کی برآمدات میں مسلسل کمی واقع ہوتی رہی۔اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر ڈی ایل ٹی ایل اسکیم متعارف ہونے کے بعد باسمتی چاول کی ظاہر کردہ برآمدی قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔









