لاہور (رپورٹنگ آن لائن)سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ ریاست کے طور پر پاکستان کی شناخت کا تعین ہمارا اپنا فیصلہ اور ترجیح ہے، اگر ہم خود کو جنگجو ریاست کے طور پر پیش کریں گے تو ہماری شناخت بھی اسی بنیاد پر بنے گی جبکہ خود کو صلح جو اور امن پسند ریاست کے طور پر پیش کرنے سے دنیا میں ہماری شناخت بھی اسی بنیاد پر قائم ہوگی، قیامِ پاکستان سے آج تک ریاست کے کردار اور عالمی تنازعات میں پاکستان کی شمولیت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کون سے تنازعات ہماری بقا کے لیے ناگزیر تھے اور کن کا تعلق ہماری داخلی و خارجہ پالیسیوں سے تھا۔
گورنر ہاؤس لاہور میں ”پاکستان اور عالمی امن” کے موضوع پر منعقدہ قومی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ تین سے ساڑھے تین دہائیوں کے دوران دہشت گردی کا خوفناک تجربہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود دہشت گردی کے خوف میں پرورش پائی اور مساجد، امام بارگاہوں، عدالتوں، اسپتالوں اور اسکولوں میں تباہی اور انسانی جانوں کا ضیاع دیکھا۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والا ملک ہے، تاہم ماضی کے تجربات کو سمجھنا اور موجودہ حالات کے لیے ان سے سبق حاصل کرنا ضروری ہے۔ سپیکر نے کہا کہ قومی یکجہتی کہیں سے حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ اسے اپنی اجتماعی صلاحیت سے مضبوط بنانا ہوگا۔
سیاسی جماعتوں کا چاروں صوبوں میں وجود اور قومی سطح پر عوامی حمایت وفاقی سوچ اور قومی وحدت کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف اور عدل عالمی معاملات میں بھی بنیادی اصول ہونے چاہئیں اور دنیا کے تنازعات کو اسی معیار پر پرکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان سمیت خطے اور دنیا میں پیدا ہونے والے تنازعات کے اسباب اور نتائج کا سنجیدہ اور تاریخی تناظر میں جائزہ ضروری ہے۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ پاکستان کو معاشی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے خود احتسابی اور ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ آئین نے پارلیمان کو جو اختیارات دیے ہیں، ان پر بلا تعطل عمل درآمد ہونا چاہیے۔ منتخب نمائندوں کی صلاحیتوں میں فرق ہوسکتا ہے، لیکن اس بنیاد پر پارلیمان کے آئینی اختیارات محدود نہیں کیے جاسکتے۔ مضبوط جمہوری ادارے، آئینی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہی پیچیدہ قومی مسائل کے پائیدار حل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ ”پاکستان اور عالمی امن” جیسے قومی مکالمے قومی مسائل کو سمجھنے اور مختلف آرا کو ایک جگہ جمع کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ اگر معاشرے میں مکالمہ ختم ہوجائے تو مسائل کے حل کے امکانات بھی محدود ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے معاشرے جنگوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئینی اصولوں، قانون اور باہمی حقوق کے احترام پر تشکیل پاتے ہیں، اس لیے قومی شناخت، جغرافیہ، قوم پرستی اور آئینی تشکیل کے معاملات پر سنجیدہ مکالمہ وقت کی ضرورت ہے۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ پائیدار امن صرف جنگ کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ انصاف، قانون کی بالادستی، سماجی اعتماد، مواقع کی فراہمی اور مضبوط اداروں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں دو لاکھ سے زائد اہلکار بھیج کر عالمی امن کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کی ہے، جبکہ 183 پاکستانی اہلکار اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی جغرافیائی اہمیت کو تنازعات کے بجائے علاقائی تعاون، امن، تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی کے مواقع میں تبدیل کرنا ہوگا، جبکہ قومی سطح پر مضبوط ادارے، آئینی بالادستی اور بامقصد مکالمہ ہی ایک مستحکم پاکستان کی بنیاد بن سکتے ہیں۔








