کراچی (رپورٹنگ آن لائن) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ پاکستان نے سمجھدار اور ذمہ دار سفارت کاری کی ہے۔
ایران اور امریکہ کی جنگ بندی میں بہترین ڈپلومیسی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ مستقل جنگ بندی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی انتھک کوششوں سے ممکن نظر آ رہی ہے۔ متحارب ممالک پاکستان کے رہین منت ہیں اور یہ پاکستان کی شاندار فتح ہے۔ بیک وقت سعودی عرب اور ایران کا پاکستان کا اعلی ترین سطح پر دورہ اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان دنیا کی بالعموم اور عالم اسلام کی بالخصوص قیادت کی بدرجہ اتم صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ دشمنی اور تخریب کاری سے بھارت نے خود کو بند گلی میں کھڑا کر لیا ہے۔
پاکستان کی معاشی کمزوری اس کے مدبرانہ عالمی کردار کے راستے میں بدترین رکاوٹ ہے۔بہترین معاشی ماہرین اور تجربہ کار بزنس مین کی ایک ٹیم بنائی جائے جو کہ جنگ کے بعد پاکستان کی معاشی ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اپنے پورٹس کو بین الاقوامی سطح پر لانے کے لئے پاکستان کو بزنس فرینڈلی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ فریق نہ ہونے کے باوجود پاکستان کو جنگ سے نقصان پہنچا ہے۔ دوست ممالک کو پاکستان کو درپیش مشکلات سے مناسب سطح پر آگاہی فراہم کی جائے۔
بیرون ملک کاسہ لیسی ترک کی جائے۔ امداد کی بجائے تجارت کے لئے بات کی جائے۔ عرب ممالک میں پاکستان کے ہنر مند افراد کی کھپت کے معاہدے کئے جائیں تاکہ بیرون ممالک سے ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہو اور ادائیگیوں کے توازن میں بہتری آئے۔
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ دودھاری تلوار ہے جسے پاکستان کو محتاط رہ کر استعمال کرنا ہے۔ دبئی کو واجب الادا رقم کی واپسی سعودی عرب کے ذریعے ممکن ہوئی۔ یہ انتظام بہت معنی خیز ہے۔ پاسبان عہدیداران کی ہفتہ وار میٹنگ میں گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ پاکستان نے اپنی اسٹریٹجک جغرافیائی پوزیشن کو دنیا پر واضح کر دیا ہے۔
خارجہ پالیسی میں پاکستان نے بہترین توازن کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے ساتھ ساتھ چین اور روس نے بھی پاکستان کی کوششوں پر اعتماد کا مظاہرہ کیا ہے۔ جنگ سے متاثرہ تمام ممالک کے ساتھ پاکستان اعلیٰ سطحی رابطے میں ہے۔ اسرائیل معاملات بگاڑنے کے لئے سر گرم ہے لیکن پاکستان کی کوششوں سے وہ دنیا میں تنہا نظر آ رہا ہے۔
پاکستان کی کوشش ہے کہ بیروت اور غزہ میں بھی مستقل امن قائم ہو۔ ایران اور سعودی عرب دونوں ہمارے بھائی ہیں۔ ہم دونوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات چاہتے ہیں۔ چیف آف آرمی اسٹاف اسٹاف نے تہران کا دورہ کر کے دنیا کو واضع پیغام دے دیا ہے









