لاہور(رپورٹنگ آن لائن ) لاہور ہائیکورٹ نے بانی چیئرمین تحریک انصاف کی بہنوں نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمی خان کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست پر تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ۔لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عہبر گل خان نے سائلہ سکینہ بی بی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے محکمہ داخلہ اور ڈپٹی کمشنر سمیت تمام متعلقہ فریقین کی جانب سے جامع تحریری جواب پیش کیا۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ نظربندی کے دوران عظمی خان اور نورین نیازی کو جیل میں تمام ضروری انسانی اور قانونی سہولیات بشمول ادویات، کپڑوں اور دیگر بنیادی لوازمات کی باقاعدہ فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔درخواست گزارسکینہ بی بی نیاپنی والدہ نورین نیازی اور خالہ ڈاکٹر عظمی خان کی 30 روز کی نظر بندی کے خلاف عدالت عالیہ سے رجوع کر رکھا ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ نظر بندی کا آرڈر خلافِ قانون اور غیر آئینی ہے۔ نظر بندکی گئی دونوں خواتین کا سیاسی یا امن و امان کی خرابی سکیورٹی تعلق نہیں، استدعا ہے اس آرڈر کو کالعدم قرار دیا جائے۔









