لندن (رپورٹنگ آن لائن) انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے پاکستانی ٹیم کی حالت زار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے پاکستان کی ایسی کمزور ٹیم کبھی نہیں دیکھی، کھلاڑی بالکل بے بس اور خوفزدہ دکھائی دے رہے ہیں،گزشتہ دنوں ٹی وی پر یہ کہا،یہ گزشتہ 50 برسوں کی کمزور ترین پاکستانی ٹیم ہے، برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف کے رائٹر شیلڈ بیری نے یہ آرٹیکل لکھا۔ اخبارات کی آن لائن رکنیت حاصل کرنا،ایک خراب ٹیم پاکستان کیخلاف انگلینڈ کو 0ـ3 سے ٹیسٹ سیریز جیتنی چاہیے، سابق کرکٹر اسٹورٹ براڈ کا چند روز قبل یہ بیان سامنے آیا۔
یہ سب کچھ سننے کے بعد یقینی طور پر ہر پاکستانی کرکٹ شائق کا خون کھول اٹھا ہو گا تاہم اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا وان، براڈ یا بیری نے کچھ غلط کہا؟ان اہم کھلاڑیوں اور تبصرہ نگاروںکے تجزیے کے بعد یہ سوال کھڑے ہوگئے ہیں کہ کیا واقعی ہماری ٹیم آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں سب سے آخری نمبر پر نہیں؟ کیا ٹیسٹ رینکنگ کی 10 ٹیموں میں ہم آٹھویں درجے پر نہیں ہیں؟ کیا پلیئرز رینکنگ کے ٹاپ 10 میں بمشکل ہمارا ایک، ایک بولر یا بیٹر شامل نہیں، کیا ہم اپنے آخری 31 میں سے صرف 8 ٹیسٹ میں کامیاب نہیں ہوئے؟ کیا بنگلادیش نے بھی ہمیں گزشتہ دونوں سیریز میں کلین سوئپ نہیں کیا؟
کیا یہ غلط ہے کہ گزشتہ دنوں ہم نے ویسٹ انڈیز کی کمزور ٹیم کو جب ہرایا تو وہ دیار غیر میں 3 برس بعد ہماری پہلی ٹیسٹ فتح تھی، اگر یہ سب جھوٹ نہیں تو ہم اپنے گریبان میں جھانکنے کے بجائے کیوں سابق کرکٹرز یا میڈیا پر غصہ کر رہے ہیں،پہلے ایک بہانہ ہوتا تھا کہ فلاں کرکٹر کو نہیں منتخب کیا گیا اس لیے ہار گئے، اب مجھے بتائیں کہ کس بریڈمین کو چھوڑ کر ٹیم انگلینڈ آئی جس کی وجہ سے بیٹنگ لائن کا اتنا خراب حال ہے، اب وقت وہ آ چکا جب پاکستان کرکٹ بھی تیزی سے اپنے مداح کھوتی جا رہی ہے، جو لوگ اس بزنس سے وابستہ ہیں آپ ذرا ان سے پوچھیں کہ کتنے اسپانسرز دستیاب رہ گئے یا جو ہیں وہ کیا آفر کرتے ہیں۔









