عدالت 10

میر رضا قتل کیس: جبران ناصر کا وزیراعلیٰ سندھ کو خط، تفتیشی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کیس میں تفتیشی عمل پر سوالات اور مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ مزید سنگین ہوگیا۔

مقتول کے والد کے وکیل جبران ناصر نے وزیراعلیٰ سندھ کو خط ارسال کرتے ہوئے کیس کی براہِ راست نگرانی، سابق تفتیشی ٹیم کے کردار کی آزادانہ تحقیقات اور متعلقہ پولیس افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔جبران ناصر نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ نئی تفتیشی ٹیم تشکیل دیے جانے کے باوجود تحقیقات مبینہ طور پر قتل کے شواہد تلاش کرنے کے بجائے خودکشی کے سابقہ مؤقف کے گرد گھوم رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سابق تفتیشی ٹیم کی کوتاہیوں، شواہد سے مبینہ غفلت اور تفتیشی ریکارڈ میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سابق تفتیشی ٹیم میں شامل متعلقہ پولیس افسران کے کردار کا جائزہ لیا جائے اور تحقیقات مکمل ہونے تک انہیں حساس عہدوں سے ہٹا کر معطل کیا جائے۔ جبران ناصر کے مطابق شواہد کو نقصان پہنچانے، تفتیش میں غفلت اور دیگر مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کی بھی باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔جبران ناصر کا کہنا ہے کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم کے بعد شواہد پولیس کے حوالے کیے جانے کے باوجود انہیں کئی روز تک متعلقہ فرانزک لیبارٹری نہیں بھیجا گیا۔ ان کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم میں خودکشی سے متعلق کوئی حتمی رائے موجود نہ ہونے کے باوجود سابق تفتیشی ٹیم نے خودکشی کا مؤقف اختیار کیا، جس سے تحقیقات کی سمت پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ پولیس کی جانب سے مختلف سی سی ٹی وی فوٹیجز میڈیا کو جاری کی گئیں جبکہ میر رضا کے اہل خانہ کو پولیس کی بروقت مدد نہ ملنے کے باعث بعض شواہد اور گاڑی کا سراغ خود لگانا پڑا۔وکیل کے مطابق میڈیکل بورڈ کی جانب سے لیے گئے نمونوں کی کیمیائی رپورٹ میں جی ایس آر کی موجودگی بھی خودکشی کے مؤقف کے حوالے سے مزید سوالات پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق تفتیشی ٹیم نے میر رضا کے دوستوں پر خودکشی کا مؤقف اختیار کرنے کیلئے دباؤ ڈالنے کی بھی کوشش کی۔کیس کی موجودہ تفتیش کے دوران میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر اسامہ سے بھی تفتیشی ٹیم نے پانچ گھنٹے سے زائد پوچھ گچھ کی۔ ذرائع کے مطابق پوچھ گچھ میں پہلے پوسٹ مارٹم کی شفافیت اور اس سے متعلق سامنے آنے والے شکوک و شبہات پر سوالات کیے گئے جبکہ ڈاکٹر اسامہ کو آئندہ بھی تفتیش میں تعاون کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مقتول کے والد میر حسین نے بھی پولیس کی ابتدائی تفتیش پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کیس میں بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کس کے دباؤ میں صرف تصاویر کی بنیاد پر تیار کی گئی۔دوسری جانب جبران ناصر نے کہا کہ نئی تفتیشی ٹیم کی جانب سے مقتول کے قرض اور کاروباری معاملات سے متعلق سوالات کیے جارہے ہیں، تاہم اصل توجہ اغوا، تشدد اور قتل کے شواہد سامنے لانے پر ہونی چاہیے۔انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ خود کیس کی تفتیش کی نگرانی کریں اور سابق تفتیشی ٹیم کے کردار کی محکمانہ انکوائری کرائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سندھ پولیس کی موجودہ تفتیشی ٹیم کیس کے تمام پہلوؤں کی مؤثر تحقیقات میں ناکام رہتی ہے تو وفاقی اداروں کی معاونت سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔جبران ناصر نے واضح کیا کہ مقتول کے اہل خانہ کسی فرد کو بلاجواز نشانہ بنانا نہیں چاہتے بلکہ ان کا بنیادی مطالبہ میر رضا کے مبینہ اغوا، تشدد اور قتل کے اصل حقائق سامنے لانا اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے۔انہوں نے کہا کہ تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے یا شواہد کو متاثر کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے تاکہ کیس کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات یقینی بنائی جاسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں