مریم اورنگزیب 7

قرضوں کی واپسی ،سکیورٹی صورتحال، قومی سٹریٹیجک منصوبوں کیلئے صوبوں نے وفاق کو گرانٹ دی ‘مریم اورنگزیب

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وفاق مضبوط ہوگا تو اس کی اکائیاں بھی مضبوط ہو گئیں،پنجاب سمیت تمام صوبوں نے وسیع تر قومی مالیاتی و معاشی مشکلات ، سکیورٹی صورتحال ، قومی سٹریٹیجک اہمیت کے حامل منصوبوں اور قرضوں کی واپسی کے پیش نظر وفاقی حکومت کو گرانٹ دی ہے بلکہ اس میں مزید حصہ ڈالنا چاہیے تھا ،پنجاب کی ترقی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ،ہر اس منصوبے جس کا تعلق عام آدمی سے ہے اس کے شیئر میں کسی طرح کی کٹوتی نہیں کی گئی ،

جو خلاء آیا ہے اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ منصوبوں اور صوبے کے اپنے وسائل میں اضافہ کر کے پورا کریں گے ،کوئی جنوبی پنجاب کا ٹھیکیدار نہ بنے ،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی نظر میں کوئی تقسیم نہیں ،صوبے کے ہر شہر اور دیہات میں یکساں ترقی کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیںجبکہ صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب میں ایف بی آر کی طرز کا ادارہ قائم کر رہے ہیں جس کے تحت تمام ٹیکسز ایک ہی چھت تلے وصول کئے جائیں گے ،پنجاب میں بعض ٹیکسز ایسے ہیں جن میں تیس سالوں سے اضافہ نہیں کیا گیا تھا ،پنجاب میں ٹیکسز کی شرح اب بھی دوسروں صوبوں سے کم ہے ، غریب آدمی کی موٹر سائیکل پر کوئی ٹیکس نہیں،ہزار سی سی گاڑی تک کوئی ٹیکس نہیں بڑھایا گیا ،بڑی کمرشل گاڑیوں کے ٹیکس بڑھائے گئے ہیں ۔

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب اورصوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے ایوان وزیراعلیٰ میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کی ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری سمیت کابینہ کے دیگر اراکین اور مختلف محکموں کے سیکرٹریز بھی موجود تھے ۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب کا تیسرا بجٹ ہے،ڈھائی سال میں سارے پنجاب میں یکساں ترقی جاری رہی اوراس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔ پاکستان کو گزشتہ تین چار ،ماہ میں سفارتی محاذپر جو کامیابی حاصل ہوئی ہیں اس پر وزیر اعظم شہباز شریف ،فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،اسلام آباد سے شروع ہونے والے امن مذاکرات اب مکمل ہونے جارہے ہیں،

اس میں اللہ پاک نے پاکستان کو سرخرو کیا۔انہوںنے کہا کہ رواں مالی سال پنجاب میں تین دریا ئوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی اور یہ تاریخ کا بد ترین سیلاب تھا لیکن اس مشکل ترین صورتحال میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے قیادت کی ، انہوں نے نہ صرف حالات کو مانیٹر کیا بلکہ لیڈ کیا اوراپنی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے فیلڈ میں نظر آئیں ۔اس دوران لاکھوں متاثرین کو ریسکیو ،ری ہیبلی ٹیشن اورریلیف مہیا کیا گیا ، یہ سب کچھ پنجاب نے اپنے وسائل سے کیا ۔ ایران امریکہ جنگ میں پیٹرول کی صورتحال پیدا ہوئی تو پنجاب نے سبسڈی کیلئے سب سے زیادہ حصہ ڈالا ۔انہوں نے کہاکہ وفاق کو تمام صوبوں نے فنانشل گرانٹ دی ، یہاں بھی وزیر اعلیٰ پنجاب نے 546ارب روپے دے کر سب سے زیادہ حصہ ڈالا اور وفاق کو مضبوط کرنے کی کوشش کی جسے تاریخ یاد رکھے گی ۔

انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب کے ڈھائی سال کے ترقیاتی منصوبے دیکھے جائیں تو صوبے کے لئے سالانہ ترقیاتی بجٹ کو کاٹنا مشکل مرحلہ تھا ، وزیر اعلیٰ پنجاب نے صوبے کے اپنے وسائل بڑھانے پر توجہ مرکوز کی ، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے منصوبوں کے ذریعے اس گیپ کو پور اکریں گے ۔انہوںنے کہا کہ مختلف محکمہ جات کی رائٹ سائزنگ کرتے ہوئے 1 لاکھ سے زائد خالی اور غیر ضروری آسامیوں کو ختم کیا جس سے صوبائی خزانہ پر بوجھ کم ہوا و ہیں 2 لاکھ سے زائد ملازمتیں بھی فراہم کی گئیں، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سکلڈ لیبر کی تیاری کے لئے خطیر بجٹ مختص کیا گیا ہے اس سے 2لاکھ افراد استفادہ کریں گے ،حکومتی اداروں کو ایڈوائزری خدمات فراہم کرنے کیلئے پنجاب فنانشل ایڈوائزری سروسز کی بنیا د رکھی گئی ،

سرکاری ملازمین اور حکومت کے صحت سہولت پروگرام کی انشورنس کیلئے پنجاب لائف انشورنس کمپنی کا قیام اور صوبائی اثاثہ جات، انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں کی انشورنس کیلئے پنجاب جنرل انشورنس کمپنی کے قیام کی منظوری دی گئی ہے،ماہی گیری اور آبی معیشت کو فروغ دینے کیلئے ایکواکلچر اینڈ فشریز ڈیپارٹمنٹ،ڈیجیٹل اکانومی سے فائدہ اٹھانے کے لئے آئی ٹی اینڈ انوویشن ڈیپارٹمنٹ اور ہنر مند افرادی قوت پیدا کرنے کیلئے سکلز ڈویلپمنٹ اینڈ انٹرپرینیور شپ ڈیپارٹمنٹ جیسے محکموں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ انہوںنے کہاکہ مالی سال 26-2025 میں پنجاب نے گندم کے قرضے کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے،گزشتہ تین سالوں کے دوران 760 ارب روپے کا قرضہ واپس کیا گیا ،

گلوبل انویسٹمنٹ اینڈ گیٹ وے آف پنجاب قائم کیا گیا ہے ،پنجاب کے سرکاری انڈسٹریل اسٹیٹس میں صنعتوںکو فروغ دینے کے لئے لینڈ لیز پالیسی متعارف کرائی گئی ہیںتا کہ صنعت کار کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت لائیو میٹ پروگرام سے گوشت کی ویلیوایڈیشن کے لیے 19 ارب 10 کروڑ روپے کی حکومتی معاونت سے 65 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متحرک ہوگی ، گوشت کی برآمدات میں 200 فیصد اضافہ ، 15 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع اور بعد از ذبح نقصانات میں 8 تا 12 فیصد کمی متوقع ہے،آئندہ مالی سال میں 168ارب روپے کی لاگت سے 2000ماحول دوست الیکٹرک بسوں کی فراہمی کا پروگرام متعارف کرایا جا رہا ہے،

اس منصوبے کے تحت پنجاب کے تمام تحصیل ہیڈ کوارٹرز تک ماحول دوست الیکٹرک بس سروس کو وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 752ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کو بہترین طریقے سے تقسیم کیا گیا ہے ،سوشل سیکٹر آج بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کی ترجیح ہے ، اس میں کسی قسم کی کٹوتی نہیں کی گئی ۔پنجاب حکومت نے ٹیکس میں زیرو اضافہ کئے بغیر ٹیکس بیس کو بڑھایا ہے، اداروں میں گورننس اور شفافیت کو بہتر کیا گیا ، ایف بی آر کی گروتھ12سے13 جبکہ پی آر اے نے32فیصد گروتھ دکھائی ہے ۔تعلیم ،صحت اور دیگر ترجیحی منصوبوں کے بجٹ میں کسی طرح کا کٹ نہیں لگایا گیا ،سوشل سیکٹر کیلئے 333.66ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ، زراعت بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کی ترجیح ہے ،

چھوٹے کسانوں کو سود سے پاک 300ارب روپے کے قر ض دئیے گئے ہیں اور اس کی ریکوری 99.9فیصد ہے،یوتھ کو بڑے پروگراموں کے ذریعے قومی دھارے میں لایا گیا ہے ۔ صحت کے شعبے میں آئندہ مالی سال میں بڑے منصوبوں کے لئے اربوں کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں،وزیر اعلیٰ پنجاب اگلے ہفتے سرگودھا کارڈیالوجی ہسپتال کا افتتاحگی ۔تیس ہزار سکولوں کی مسنگ فیسلیٹیز پر کام کیا جارہاہے ،بارہ ہزار اضافی کلاس رومز تعمیر کئے گئے ہیں جس سے پچاس سے ساٹھ لاکھ بچوں کی انرولمنٹ بڑھی ہے ،کسی بھی ترجیحی ایریا میں،سوشل سیکٹر کے بجٹ میں کمپرو مائز نہیں کیا گیا ۔

انہوںنے کہا کہ بلدیاتی انتخابات جب بھی ہوئے ہیں پاکستان مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے کرائے ہیں ، دوسرے تو گپ شپ مار کر چلے گئے ، بلدیاتی نمائندوں کو گھر بھیج دیا گیا اور انہیں دفتر آنے کی اجاز ت نہیں تھی ، ہم نے قانون پاس کیا ہے ،بلدیاتی انتخابات مقررہ وقت پر کرائیں گے ، کمیٹیز بن گئی ہیں ہمارے امیدواروں کی حتمی فہرستیں تیار ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ علی حیدر گیلانی کے حوالے سے غلط رپورٹ ہوا جس کی انہوںنے تردید بھی کی ہے ۔ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ سیلاب اور جنگ کی وجہ سے معیشت کے لئے مسائل آئے ، مشکل حالات میں پنجاب نے وفاق کو سپورٹ کیا ہے ۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ پنجاب میں وفاقی ادارے ایف بی آر کی طرز پر ادارہ قائم کریں گے جس میں ایک ہی جگہ ایک چھت کے نیچے تمام ٹیکسز اکٹھے ہوں گے ، ٹیکس دینے والوں کو پی آر اے ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور بورڈ آف ریو نیو کی بجائے ایک ہی ادارے سے رجوع کرنا پڑے گا ۔پی آر اے کی ٹیکس وصولی ایف بی آر اور دیگر تمام صوبوں کی اتھارٹیز سے بہتر ہے ، پنجاب حکومت نے دو سال میں کوئی ٹیکس نہیں لگایا ، ہم نے ٹیکسز کے نیٹ کو بڑھایا ہے ،پنجاب میں ٹیکسز کی شرح دیگر صوبوں سے زیادہ نہیں ہے ۔یہاں بعض ٹیکسز ایسے تھے جو ہم باقی صوبوں کے مقابلے میں انتہائی کم شرح سے وصول کر رہے تھے ان میں اضافہ کیا گیا ہے ۔

ہم نے پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے لئے وفاق کو گرانٹ دی ہے ،فیڈریشن مضبوط ہو گی تو اس کی اکائیاں مضبوط ہوں گی ۔ پی آر اے کا آئندہ مالی سال کا ہدف 528ارب روپے رکھا گیا ہے ،بورڈ آف ریو نیو اپنا ہدف حاصل نہیں کر سکا اسے 105 ارب سے کم کرکے 86.2ارب روپے کر دیا ہے، ایکسائز ٹیکسیشن بھی اپنے ہدف سے اوپر گیا ہے ، اس کے لئے اگلے سال کا محصولات وصولی کا ہدف 124ارب روپے رکھا ہے ۔مائنز اینڈ منرلز ہے میں بڑا پوٹینشل ہے ،جب ہم آئے تو مائنز اینڈ منرلز کی کلیکشن 12ارب روپے تھی اس وقت یہ30ارب روپے سے اوپر جا چکا ہے،

اب اس کا 40ارب روپے ہدف ہے ،461.2ارب روپے صوبائی نان ٹیکس محصولات کاہدف ہے۔انہوںنے کہاکہ 90ء کی دہائی سے زرعی ٹیکس ایک ہی شرح سے وصول کیا جارہا تھا ،آئی ایم ایف کے کہنے پر تمام صوبے قانون سازی کر کے انکم بیسڈ ٹیکسیشن کی طرف آئے ۔ اسٹیک ہولڈر زسے مشاورت کے بعدٹیکس 300سے بڑھا کر1000فی ایکڑ کیا، اس میں بھی ساڑھے 12ایکڑ اراضی والے کسان مستثنیٰ ہیں جبکہ90فیصد ساڑھے 12ایکڑ اراضی والے کسان ہیں، 10فیصد بڑھے زمیندار ہیں، اس مد میں12سے15ارب کے محصولات حاصل ہونے کا ہدف ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں