مولانا فضل الرحمان 14

عوامی حقوق، آئین کی بالادستی، قومی خودمختاری اور اسلامی تشخص پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا’ مولانا فضل الرحمن

قصور( رپورٹنگ آن لائن)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک آزاد، خودمختار، اسلامی، جمہوری، خوشحال اور باوقار ریاست بنانا جمعیت علمائے اسلام کی جدوجہد کا بنیادی مقصد ہے،عوام کے آئینی، جمہوری، معاشی اور سیاسی حقوق کے تحفظ، آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور قومی وحدت کے لیے جمعیت علمائے اسلام اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی ایسے اقدام کو قبول نہیں کرے گی جو عوام کے بنیادی حقوق، قومی خودمختاری یا اسلامی تشخص کے منافی ہو۔

قصور میں منعقدہ ایک عظیم الشان عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ برصغیر کے مسلمانوں اور بالخصوص علماء کرام نے آزادی کے حصول کے لیے ناقابلِ فراموش قربانیاں دیں۔ انگریز استعمار کے خلاف جہاد کا آغاز علماء نے کیا، انہوں نے پھانسی کے پھندے چومے، جیلیں برداشت کیں، جلاوطنی اختیار کی اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لیکن غلامی کو قبول نہیں کیا۔ آج کی نسل پر یہ قرض ہے کہ وہ ان قربانیوں کی حفاظت کرے اور پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور اسلامی شناخت کو ہر قیمت پر محفوظ بنائے۔انہوں نے کہا کہ جب تک برصغیر کی سیاسی قیادت علماء کے ہاتھ میں رہی، معاشرے میں مذہبی، لسانی اور فرقہ وارانہ تصادم کی وہ کیفیت پیدا نہیں ہوئی جو بعد کے ادوار میں سامنے آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ تقسیم کی سیاست، نفرتوں کا فروغ اور مختلف طبقات کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کی روش نے ملک اور معاشرے کو شدید نقصان پہنچایا جبکہ جمعیت علمائے اسلام نے ہمیشہ اتحادِ امت، قومی یکجہتی اور باہمی احترام کی سیاست کو فروغ دیا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج بھی پاکستان کو اندرونی اور بیرونی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے لیکن ان کا حل تصادم، نفرت اور انتقام میں نہیں بلکہ آئین، قانون، انصاف، عوامی اعتماد اور جمہوری اداروں کی مضبوطی میں پوشیدہ ہے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ کرے، شفاف انتخابات کو یقینی بنائے اور عوام کو ان کی حقیقی نمائندگی فراہم کرے تو ملک سیاسی اور معاشی استحکام کی جانب بڑھ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کے ووٹ کا احترام جمہوریت کی بنیاد ہے۔

اگر عوام کے حقِ رائے دہی پر شبہات پیدا ہوں یا انتخابی عمل پر اعتماد مجروح ہو تو اس کے اثرات پورے سیاسی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ ہے، اس کا بنیادی فرض عوام کے حقوق کا تحفظ، آئین کی پاسداری اور ریاستی اداروں کے درمیان آئینی توازن کو برقرار رکھنا ہے۔معاشی صورتحال پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی، گیس، پٹرول اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام آدمی کی زندگی انتہائی دشوار بنا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو ریلیف فراہم کرنا، معیشت کو مستحکم کرنا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور قومی وسائل کو عوامی فلاح پر خرچ کرنا ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عوام یہ محسوس کریں کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ ان کی فلاح و بہبود کے بجائے قرضوں کے سود، غیر پیداواری اخراجات یا ایسے معاملات پر خرچ ہو رہا ہے جن سے عوام کو براہِ راست فائدہ نہیں پہنچتا تو عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف طرزِ حکمرانی اختیار کرے، قومی وسائل کے استعمال میں جوابدہی کو یقینی بنائے اور عوام کے اعتماد کو بحال کرے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان کے تمام صوبے اور وفاقی اکائیاں اس ملک کی مشترکہ طاقت ہیں۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ اور پنجاب کے قدرتی وسائل پر سب سے پہلا حق وہاں کے عوام کا ہے۔

وسائل کی تقسیم آئین، انصاف اور مساوات کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے تاکہ احساسِ محرومی ختم ہو، قومی ہم آہنگی مضبوط ہو اور ہر شہری خود کو ریاست کا مساوی حصہ دار محسوس کرے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی علاقے کے عوام خود کو اپنے وسائل، ترقیاتی منصوبوں یا معاشی مواقع سے محروم سمجھیں گے تو وہاں بے چینی پیدا ہوگی، اس لیے ضروری ہے کہ تمام صوبوں اور علاقوں کو ان کے جائز حقوق دیئے جائیں، آئینی تقاضے پورے کیے جائیں اور ترقی کے ثمرات ہر شہری تک یکساں طور پر پہنچیں۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام نے ہمیشہ فرقہ واریت، لسانی تعصب، علاقائی نفرت اور قومیتوں کو ایک دوسرے کے مقابل لانے کی سیاست کی مخالفت کی ہے۔ ہماری سیاست کا محور پاکستان کی وحدت، اسلامی اقدار، جمہوری استحکام، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقوق کا تحفظ ہے، اور آئندہ بھی یہی ہماری جدوجہد کا راستہ رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں