اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی انتظامی طور پر فارغ، اب سیاسی طور پر بھی ہوچکے ہیں۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران فلسطینی عوام کے حق میں دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسرائیلی مظالم کی بھرپور مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے واشگاف الفاظ میں پوری امت مسلمہ کا مقدمہ لڑا اور فلسطین کے مسئلے کو عالمی فورم پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ فلسطینی نمائندوں نے وزیراعظم کی تقریر کو دل کھول کر سراہا، جبکہ دنیا بھر میں بھی ان کے خطاب کی پذیرائی ہوئی، وزیراعظم کے فلسطینی عوام کے لیے جذبات محض الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات بھی سب کے سامنے ہیں۔
عطا تارڑ نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے فلسطینی عوام کے لیے امدادی سامان بھی بھجوایا گیا جب کہ وزیراعظم شہباز شریف نے فلسطینی طلبہ کی پاکستان میں میڈیکل تعلیم کے حوالے سے بھی کردار ادا کیا ہے، فلسطین کے طلبہ پاکستان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں اسلاموفوبیا کی بھی مذمت کی اور فلسطین کا مقدمہ بھرپور طریقے سے لڑتے ہوئے اسرائیلی مظالم کے خلاف واضح مؤقف پیش کیا۔دوسری جانب عطا تارڑ نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دلیرانہ قیادت میں بھارت کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔
انہوں نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو مؤخر کیے جانے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کے حوالے سے کوئی تیاری نہیں تھی، ’’ہمت ہے تو آجاؤ‘‘ کہنے پر خیبرپختونخوا حکومت کو آگ لگ گئی، اب پانچ اکتوبر کی تاریخ دے دیں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کا دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے اور دہشت گردی کے حوالے سے ان کی پالیسی بزدلانہ ہے، پی ٹی آئی سیاسی طور پر بھی ختم ہوچکی ہے، جب کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی انتظامی طور پر فارغ تھے اور اب سیاسی طور پر بھی ہوچکے ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ ’’کھودا پہاڑ، نکلا چوہا‘‘، سہیل آفریدی نے کارکنوں کو مایوس کیا، اِن کے بقول پی ٹی آئی لانگ مارچ اور دھرنے سے پیچھے ہٹ رہی ہے، تاہم اگر وہ نئی تاریخ پانچ اکتوبر مقرر کرتے ہیں تو حکومت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔









