سپریم کورٹ آف پاکستان 19

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہنگامی صورتحال میں بھی عدالتی کارروائی بلا تعطل جاری رکھی

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)ادارہ جاتی استحکام اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کی ایک نمایاں مثال قائم کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان نے پرنسپل سیٹ اسلام آباد سے عدالتی کارروائی کامیابی سے جاری رکھی جبکہ معزز جسٹس عائشہ ملک لاہور رجسٹری سے محفوظ ویڈیو لنک کے ذریعے بینچ میں شریک ہوئیں۔

یہ انتظام لاہور رجسٹری میں بینچ کی تشکیل سے متعلق ایک ہنگامی صورتحال کے باعث ناگزیر ہوا۔ معمول کے حالات میں ایسی صورتِ حال کے نتیجے میں مقررہ تمام مقدمات ڈی لسٹ ہو جاتے، جس سے سائلین اور معزز وکلاء کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا۔ تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں مسلسل سرمایہ کاری کے باعث عدالت نے تمام مقررہ سماعتیں بغیر کسی تعطل کے جاری رکھیں۔اہم امر یہ ہے کہ کارروائی محض رسمی نوعیت کی نہیں تھی بلکہ بینچ نے مقررہ 28 مقدمات میں سے 20 مقدمات کی سماعت مکمل کرتے ہوئے انہیں نمٹا دیا، جو بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی کے عزم کا عملی مظہر ہے۔

یہ کارروائی غیر متوقع حالات میں بھی انصاف تک بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنانے کے لیے عدلیہ کے غیر متزلزل عزم کی عکاس ہے۔ ساتھ ہی یہ اس امر کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ جاری عدالتی اصلاحات، جن کا مقصد ٹیکنالوجی کے ذریعے عدالتی کارکردگی، شفافیت اور جوابدہی میں اضافہ ہے، مثبت نتائج دے رہی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے بار کے تعاون، عدالتی عملے کی فوری ہم آہنگی، اور آئی ٹی ٹیموں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہاجن کی کوششوں سے سماعت کے اس جدید طریقہ کار میں بروقت منتقلی ممکن ہوئی۔یہ پیش رفت پاکستان کے عدالتی نظام کو مزید مؤثر، لچکدار اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کی جانب لے جانے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان عوامی اعتماد کے فروغ اور انصاف کے بہتر تقاضوں کی تکمیل کے لیے اپنی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو مزید مستحکم بنانے کے عزم پر قائم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں