خرم دستگیر 10

سندھ طاس معاہدے کی معطلی قانونی اعتبار سے بے معنی ہے، خرم دستگیر

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ بھارت نے عالمی قانون کی توہین کرتے ہوئے دریاﺅں کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی اورپانی کو ایک ہتھیار کے طور پراستعمال کیا،سندھ طاس معاہدے کی معطلی قانونی اعتبارسے بے معنی ہے۔سابق وفاقی وزیرخرم دستگیرخان نے سندھ طاس معاہدے پربین الاقوامی سیمینارسے خطاب میں کہاکہ بھارت نے گزشتہ سال یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا،حالانکہ یہ معاہدہ غیرمعمولی مضبوطی اور لچک کا حامل ہے اور اس میں کسی بھی فریق کو یکطرفہ معطلی کا اختیار حاصل نہیں،اس لئے معاہدے کی معطلی قانونی اعتبار سے بے معنی ہے۔

خرم دستگیرکا کہنا تھا کہ معاملہ صرف معاہدے کی معطلی تک محدود نہیں رہا بلکہ بھارت کی جانب سے کھلی آبی دھمکیوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا،ایک بھارتی وزیر نے یہ بیان دیاکہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ دریائے سندھ کا ایک قطرہ بھی پاکستان نہ پہنچے،جبکہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ بھارتی وزرا کے یہ بیانات اسی موقف کا تسلسل ہیں جو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 2016میں پیش کیاتھا،بھارت کی دھمکیاں ایک بارنہیں بلکہ بار باردہرائی گئی ہیں،اس لئے بھارتی بیانات اورموقف کا حقائق کی بنیاد پر جائزہ لینا ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں