حلیم عادل شیخ 19

سندھ حکومت کے محکموں میں 836 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں تشویشناک ہیں، حلیم عادل شیخ

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مالی سال 2023ـ24 کی آڈٹ رپورٹ میں سندھ حکومت کے مختلف محکموں میں 836 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعداد و شمار سرکاری مالیاتی نظام، نگرانی اور احتساب کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔

اپنے بیان میں حلیم عادل شیخ نے کہا کہ آڈٹ رپورٹ میں اربوں روپے کی ریکوری، سرکاری ریکارڈ کی عدم فراہمی، بھرتیوں، خریداری، ترقیاتی منصوبوں اور اندرونی مالیاتی کنٹرول سے متعلق بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سندھ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ سرکاری خزانے کے استعمال میں سامنے آنے والی خامیوں کا ذمہ دار کون ہے اور ان کے ازالے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم، آبپاشی، توانائی اور ورکس اینڈ سروسز جیسے اہم محکموں میں مالی معاملات سے متعلق آڈٹ اعتراضات سامنے آنا عوامی خدمات اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف شہری بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب سرکاری اخراجات کے حسابات پر بڑے پیمانے پر اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔

پی ٹی آئی سندھ کے صدر نے مطالبہ کیا کہ تمام آڈٹ اعتراضات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، جہاں مالی نقصان یا بدعنوانی ثابت ہو وہاں ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، سرکاری رقوم کی ریکوری یقینی بنائی جائے اور تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔حلیم عادل شیخ نے واضح کیا کہ آڈٹ اعتراضات کو حتمی طور پر ثابت شدہ کرپشن قرار دینے کے بجائے ہر معاملے کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔

تاہم، ان کے مطابق سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اعتراضات کا تسلی بخش جواب دے اور عوامی خزانے کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری وسائل عوام کی امانت ہیں اور ان کے استعمال میں شفافیت، جواب دہی اور قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنائی جانی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں