شیری رحمان 11

موجودہ رفتار سے پاکستان کی آبادی 2050 تک تقریباً 39 کروڑ ہو جائے گی،شیری رحمن

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) نائب صدر پیپلزپارٹی شیری رحمن نے کہا ہے کہ موجودہ رفتار سے پاکستان کی آبادی 2050 تک تقریباً 39 کروڑ ہو جائے گی،نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع دینا ضروری ہے، بروقت اقدامات نہ کیے تو بڑھتی آبادی مسائل میں اضافہ کر سکتی ہے۔

سینیٹر شیری رحمان نے 17ویں پارلیمانی فورم آن پاپولیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی آبادی تقریباً 26 کروڑ ہو چکی ہے، سالانہ شرحِ اضافہ 2.55 فیصد ہے، موجودہ رفتار سے پاکستان کی آبادی 2050 تک تقریباً 39 کروڑ ہو جائے گی۔شیری رحمان نے کہاکہ پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع دینا ضروری ہے، بروقت اقدامات نہ کیے تو بڑھتی آبادی مسائل میں اضافہ کر سکتی ہے۔ شیری رحمن نے کہاکہ پاکستان میں مانع حمل طریقے استعمال کرنے کی شرح صرف 34 فیصد ہے، 17.3 فیصد شادی شدہ جوڑوں کو خاندانی منصوبہ بندی کی سہولتیں میسر نہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان میں تقریباً 40 فیصد بچے پانچ سال کی عمر سے پہلے غذائی کمی کا شکار ہوتے ہیں، پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی صحت مند غذا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ انہوںنے کہاکہ آبادی کا مسئلہ صرف خواتین نہیں، پورے خاندان اور ملک کی ترقی سے جڑا ہے، خاندانی منصوبہ بندی سے ماؤں کی صحت بہتر اور بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

انہوںنے کہاکہ مانع حمل اشیا اور اس سے متعلقہ مصنوعات پر ٹیکس ختم کرنا ضروری ہے، خاندانی منصوبہ بندی کی سہولتیں سستی اور ہر علاقے میں دستیاب ہونی چاہئیں۔ شیری رحمن نے کہاکہ آبادی سے متعلق قوانین پر عمل اور مناسب فنڈز کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی، بڑھتی آبادی کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔شیری رحمان نے کہاکہ پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانا ضروری ہے۔ شیری رحمان نے کہاکہ پاکستان کو 2040 تک تقریباً 10 کروڑ 40 لاکھ نئی ملازمتیں درکار ہوں گی، پاکستان کو 2040 تک ایک کروڑ 55 لاکھ نئے گھروں کی ضرورت ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ بڑھتی آبادی کے لیے تعلیم، صحت، روزگار، رہائش اور پانی کی بہتر منصوبہ بندی ضروری ہے۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی ایک ہزار مکعب میٹر سے بھی کم رہ گئی ہے، پانی کی کمی پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ شیری رحمان نے کہاکہ وزیراعظم نے قومی آبادی کونسل قائم کرکے آبادی کے مسئلے کی ذمہ داری قبول کی ہے، خاندانی منصوبہ بندی کے فیصلے گھر کی آمدن اور وسائل کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں۔ انہوںنے کہاکہ زیادہ بچوں والے خاندانوں میں محدود وسائل ان کی خوراک، صحت اور تعلیم کو متاثر کرتے ہیں، غذائی قلت، خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی کے مسائل کو ایک ساتھ حل کرنا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ آبادی سے متعلق آگاہی کے لیے ملک گیر مہم چلانے کی ضرورت ہے، آبادی سے متعلق آگاہی پیغامات اردو اور صوبائی زبانوں میں جاری کیے جائیں۔

انہوںنے کہاکہ وزارت اطلاعات آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی کی آگاہی مہم اپنے پروگرام میں شامل کرے۔ انہوںنے کہاکہ شہری اور دیہی علاقوں کے لیے الگ الگ آگاہی مہم تیار کی جائے، کم بچے، خوشحال گھرانہ جیسے پیغامات سے خاندانی منصوبہ بندی کا شعور بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ارکان پارلیمنٹ آبادی سے متعلق اہم پیغامات پر ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کریں، آبادی سے متعلق آگاہی پیغامات سرکاری ٹی وی اور نجی چینلز پر نشر کیے جائیں۔ انہوںنے کہاکہ آبادی کے مسئلے پر پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی اجلاس منعقد کیے جائیں، آبادی کے مسئلے پر آئندہ سینیٹ اجلاس میں قرارداد پیش کی جائے گی۔شیری رحمان نے کہاکہ آبادی کے مسئلے پر اگلے اجلاس تک عملی پیش رفت ضروری ہے، محدود وسائل کے باعث آبادی کے مسئلے پر وفاق اور صوبوں کو مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں