لاہور (رپورٹنگ آن لائن)سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ معروف دانشور، کالم نگار اور سینیٹر عرفان صدیقی دلیل کی بنیاد پر بات کرنے اور اصولی مؤقف پر قائم رہنے والی شخصیت تھے، آئینی بالادستی، جمہوری اختیار اور قومی سلامتی جیسے اہم معاملات پر ان کی رائے اور مشاورت قابلِ قدر رہی،خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حق میں حکومتی مؤقف دہشت گردی کی صورت حال، صوبائی حکومت کی کارکردگی اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے مختص وسائل کے استعمال سے متعلق تحفظات پر مبنی ہے جبکہ نوجوانوں کو گمراہ قرار دینے کے بجائے انہیں تعلیم، روزگار اور بہتر مستقبل کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔
پنجاب یونیورسٹی میں لٹریری فیسٹیول اور کتاب میلے کی افتتاحی تقریب میں شرکت اور معروف دانشور عرفان صدیقی کی کتاب کی رونمائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ عرفان صدیقی کی تحریروں، پارلیمانی تقاریر اور ٹی وی پروگراموں میں پیچیدہ قومی معاملات پر پیش کیے جانے والے مؤقف کو انہوں نے ہمیشہ توجہ سے سنا۔ ان کے کالموں سے حالات کے ان پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے جو بسا اوقات پوشیدہ ہوتے ہیں۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ حقیقی اصلاحات کے لیے ضروری ہے کہ آئین کی روح کے مطابق ریاستی اختیارات منتخب نمائندوں کے پاس ہوں تاکہ ان کا احتساب ممکن بنایا جا سکے۔ بیوروکریسی کے اختیارات اور انتظامی کلچر میں بنیادی تبدیلی کے بغیر مطلوبہ اصلاحات ممکن نہیں۔ انہوں نے پاک افغان پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات میں عرفان صدیقی کی مشاورت اور کردار کو بھی سراہا۔خیبر پختونخوا میں گورنر راج سے متعلق سوال کے جواب میں سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ انہوں نے پارلیمان میں اس معاملے پر ہونے والی بحث اور تقاریر کو سنا۔ ان کے مطابق حکومتی جماعتوں اور اتحادیوں نے صوبے میں دہشت گردی کی صورت حال، صوبائی حکومت کی کارکردگی اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے مختص وسائل کے استعمال سے متعلق تحفظات پیش کیے ہیں۔
سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ دہشت گردی کے پھیلاؤ کو روکنا اور متاثرہ علاقوں میں امن بحال کرنا ناگزیر ہے۔قومی سلامتی کے حوالے سے سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ پاکستان کی کئی نسلیں دہشت گردی کے خوف میں پروان چڑھی ہیں۔ عدالتوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، بازاروں اور ٹرانسپورٹ پر حملوں نے معاشرے کو شدید متاثر کیا ہے۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ افواجِ پاکستان، وزیراعظم اور پارلیمان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو خوف کے ماحول سے نجات دلا کر محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ قومی سلامتی بنیادی اہمیت رکھتی ہے، ملک محفوظ ہوگا تو سیاست، معیشت اور دیگر شعبوں میں بھی بہتری کے امکانات پیدا ہوں گے۔نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق سوال پر سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ نوجوانوں کو گمراہ قرار دینا درست نہیں، ان کے خواب ہوتے ہیں اور انہیں پورا کرنے کے لیے تعلیم، روزگار، جدید مہارتیں اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔
سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ سیاسی استحکام، معاشی بہتری اور امن نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے ناگزیر ہیں۔ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع دے کر ان کی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔پنجاب یونیورسٹی کے لٹریری فیسٹیول اور کتاب میلے کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ یہ فیسٹیول ان کے لیے عید کے دن کی مانند ہے۔ یہ محض ایک تقریب نہیں بلکہ کتاب بینی، مکالمے، دلیل اور تخلیقی سوچ کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ طلبہ و طالبات کی دلچسپی اور اعتماد خوش آئند ہے اور دیگر جامعات کو بھی ایسی سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہیے۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ لاہور میں کتابوں کی متعدد معروف دکانیں ختم ہو چکی ہیں یا ان کی جگہ دوسرے کاروبار قائم ہو گئے ہیں۔
کتابوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اشاعت کے اخراجات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کی کتابوں تک رسائی آسان ہو سکے۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل مطالعے اور مصنوعی ذہانت کی اہمیت اپنی جگہ، تاہم انسانی تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ اور فکری استعداد بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ معاشرے میں اختلافِ رائے برداشت کرنے، دوسروں کی بات سننے اور دلیل کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرنے کا رجحان مضبوط بنانا ضروری ہے۔ کتاب بینی اور ادبی سرگرمیاں نوجوانوں کی فکری تربیت اور ایک متوازن معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔








