پشاور(رپورٹنگ آن لائن)خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت امن و امان کے قیام، دہشت گردی کے خاتمے اور پولیسنگ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے رواں مالی سال کے بجٹ میں پولیس اور انسداد دہشت گردی کے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں، شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے رواں مالی سال پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191 ارب روپے کر دیا ہے جبکہ دہشت گردی سے نبرد آزما فرنٹ لائن اضلاع میں پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے انفراسٹرکچر کی بہتری اور استعداد کار میں اضافے کے فیز ون اور فیز ٹو کے لیے 4 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ پشاور میں سی ٹی ڈی ریجنل ہیڈکوارٹر کے قیام اور اس کے نیٹ ورک کو اضلاع تک توسیع دینے کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس پروکیورمنٹ پلان کے لیے 14.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
اس منصوبے کے تحت جدید اسلحہ اور گولہ بارود کی خریداری کے لیے 7.7 ارب روپے، بلٹ پروف گاڑیوں اور آرمرڈ پرسنل کیریٔرز کی خریداری کے لیے 1.8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مزید برآں تھرمل کیمروں، ڈرونز، اینٹی ڈرون سسٹمز، جیمرز اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کی خریداری کے لیے 3.562 ارب روپے رکھے گئے ہیں، صوبائی وزیر نے کہا کہ پولیس کی ماہانہ آپریشنل سپورٹ کے لیے 7.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، انھوں نے کہا خیبرپختونخوا حکومت مختلف اضلاع میں سیکیورٹی نگرانی کو مزید موثر بنانے کے لئے بھی خصوصی اقدامات کررہی ہے اس ضمن میں اپر و لوئر ساؤتھ وزیرستان، اورکزئی اور کرم میں جدید سیف سٹی منصوبوں کے قیام کے لیے 1.78 ارب روپے جبکہ خیبر، مہمند اور باجوڑ کے سیف سٹی منصوبوں کے لیے 1.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اسی طرح ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز مردان، کوہاٹ اور سوات کے سیف سٹی منصوبوں کے لیے 500 ملین روپے رکھے گئے ہیں جبکہ کرک، ٹانک اور مانسہرہ کے سیف سٹی منصوبوں کے لیے بھی بجٹ میں فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔شفیع جان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جدید فارنزک سائنس لیبارٹری کے قیام کے لیے 600 ملین روپے اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے، جدید اسلحہ اور آلات کی فراہمی کے لیے 900 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیسنگ اور پٹرولنگ کا جدید نظام متعارف کرانے کے لیے ایک ارب روپے مالیت کا منصوبہ بھی شروع کیا جا رہا ہے،
گزشتہ چھ ماہ کے دوران دہشت گردوں کے 341 ڈرون حملوں کو اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے ناکام بنایا گیا، جبکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خیبر پختونخوا پولیس میں یو اے وی (UAV) ڈویژن قائم کیا گیا ہے، جو جدید سکیورٹی حکمت عملی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے،وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ بجٹ میں صوبے بھر میں مزید تھانوں اور پولیس چوکیوں کی تعمیر کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ عوام کو مؤثر اور بروقت پولیس خدمات فراہم کی جا سکیں، شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ، دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید مؤثر اقدامات بھی کیے جائیں گے۔









