لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ عوامی احتجاج اب محض دھرنوں تک محدود نہیں رہے گا، 3 ستمبر کو ملک گیر تاریخی ہڑتال ہوگی اور اس کے بعد اسلام آباد لانگ مارچ کی کال بھی دی جائے گی، حکومت کو ہر صورت عوام کو ریلیف دینا اور پٹرولیم لیوی سمیت عوام پر عائد ناجائز ٹیکس ختم کرنا ہوں گے، اب یہ تحریک رکنے والی نہیں۔
لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جماعت اسلامی کے دھرنے کے 13ویں روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ قوم شدید مشکلات سے دوچار ہے، حکمران ٹولہ اور بیوروکریسی عوام کے مسائل کی طرف توجہ دینے کو تیار نہیں۔ لاہور، پشاور اور کراچی میں دھرنے جاری ہیں جبکہ پنجاب کے سیکڑوں مقامات پر احتجاجی کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں۔ حیدرآباد اور اندرون سندھ میں بھی دھرنے اور احتجاجی کیمپ شروع ہو چکے ہیں۔ امیر لاہور ضیا الدین انصاری٫ امیر پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ آج رات فیصل آباد میں بڑا جلسہ ہوگا، 30 اگست کو راولپنڈی میں تاریخی جلسہ عام منعقد کیا جائے گا جبکہ 31 اگست کو پشاور کا دھرنا بھی جلسہ عام میں تبدیل ہوجائے گا۔ یکم ستمبر جو کراچی کے دھرنے کو بھی بڑے جلسہ عام میں تبدیل کیا جائے گا جبکہ سوات میں بھی جلسہ عام ہوگا۔
کوئٹہ میں کل سے دھرنے کا آغاز کیا جا رہا ہے جہاں بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل اور ان کے حل پر بات چیت کی جائے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 3 ستمبر کی ملک گیر ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں اور جماعت اسلامی تاجروں اور صنعتکاروں سے بھی رابطہ کرے گی۔ ہڑتال کامیاب ہوگی اور اس کے بعد دھرنا تحریک جاری رکھتے ہوئے اسلام آباد جائیں گے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کو پٹرولیم لیوی اور مختلف ٹیکس بھی ختم کرنا ہوں گے۔ ہمارے دباؤ کے باعث حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں کمی کی، لیکن عوام کو مستقل اور حقیقی ریلیف درکار ہے۔ بجلی کی پیداوار کی صلاحیت ملک میں دگنی ہوچکی ہے، اس کے باوجود لوڈشیڈنگ عروج پر ہے اور عوام سے کیپسٹی پیمنٹس کے نام پر بھاری رقوم وصول کی جا رہی ہیں۔انہوں نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ جب ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے تو لوڈشیڈنگ کیوں ہورہی ہے؟ بجلی کی کمپنیوں کو عوام سے ہزاروں ارب روپے وصول کرنے کے باوجود فعال کیوں نہیں کیا جاسکا؟ بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کی جائے۔حافظ نعیم الرحمن نے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں نے مل کر ملک کا نظام درہم برہم کردیا ہے۔ یہ آپس میں نوراکشتی کرتے ہیں لیکن مل کر جیبیں بھرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی جماعت عوام کے حقیقی مسائل کو اس طرح اجاگر نہیں کررہی۔
موجودہ حکمران عوام کو تعلیم، صحت اور روزگار دینے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ پمز ہسپتال کے واقعے کی ذمہ دار بھی یہی پی ڈی ایم ہے۔ صرف سیکرٹری کو معطل کرکے ڈرامہ کیا گیا، اگر واقعے کی مکمل تحقیقات نہیں کرائی گئیں تو پھر سیکرٹری کو معطل کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ دیگر ذمہ داران کے استعفوں کا مطالبہ کرنے والوں کو پہلے تحقیقات کا انتظار کرنے کا کہا جاتا ہے، حکومت کو جواب دینا ہوگا کہ اصل ذمہ دار کون ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے حکمران طبقے اور اشرافیہ کے طرز زندگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایک چھوٹے سے طبقے کو تمام تر مراعات حاصل ہیں، ایسے لوگ بھی قومی اسمبلی میں بیٹھے ہیں جنہوں نے اپنے حلقے میں ایک بھی پولنگ سٹیشن نہیں جیتا۔ عوام کے پیسوں سے حکمران عیاشیاں کررہے ہیں جبکہ عام آدمی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بدترین معاشی حالات میں بھی وزیراعلیٰ نے 11 ارب روپے کا جہاز خرید لیا، اشرافیہ عوام کے پیسوں پر 3400 سی سی تک کی گاڑیاں استعمال کررہی ہے۔ انہوں نے سرکاری بابو اور پیرا فورسسز غریبوں کے ٹھیلے ہٹا کر ان سے روزگار چھین رہے ہیں جن کے حکم پر یہ تجاوزات کے خلاف نام نہاد آپریشن کرتے ہیں وہ خود عوامی مینڈیٹ کے بغیر ناجائز قبضہ کرکے بیٹھے ہیں ۔ مریم نواز کو ”انکروچڈ چیف منسٹر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں عوام کی ”پیرا فورس” ہٹائے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کسی ایک مطالبے تک محدود نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق اور حقیقی ریلیف کی جدوجہد ہے۔ حکومت سمجھ لے، اب یہ تحریک نہیں رکے گی۔









