رضا الرحمن 47

تعلیم کا نقصان: کیا ہم اپنے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں؟

تحریر : ماہر تعلیم رضا الرحمن

تعلیم کا نقصان: کیا ہم اپنے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں؟

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں حالیہ عرصے کے دوران تعلیمی نظام مسلسل تعطیلات کی زد میں رہا ہے۔ گزشتہ سال کے اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہیں، جہاں بچوں کی صرف 109 دن تعلیم ہو سکی جبکہ 256 دن اسکول بند رہے۔ یہ صورتحال کسی بھی سنجیدہ معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے۔

اس تعلیمی خلا کا سب سے بڑا اثر بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت پر پڑا ہے۔ طلبہ نہ صرف اپنی تعلیمی رفتار کھو بیٹھے ہیں بلکہ ان کی توجہ بھی بکھر چکی ہے۔ موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر غیر ضروری مصروفیات نے ان کی توجہ کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ آج کا بچہ کتاب کے بجائے اسکرین کی طرف زیادہ مائل ہو چکا ہے۔

ایسے میں یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ گرمیوں کی چھٹیاں کم کی جائیں اور اسکولوں کو کم از کم دو ماہ کے لیے فعال رکھا جائے۔ اگر اسکولوں کے اوقات کار کو صبح 7 بجے سے 11 بجے تک محدود کر دیا جائے تو نہ صرف گرمی سے بچاؤ ممکن ہے بلکہ تعلیمی سلسلہ بھی جاری رہ سکتا ہے۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پورے ملک میں یکساں پالیسی نافذ کرنا دانشمندی نہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں موسم اور حالات مختلف ہوتے ہیں، لہٰذا جہاں شدید گرمی ہو صرف وہیں اسکول بند کیے جائیں، جبکہ دیگر علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں۔

بدقسمتی سے، حالیہ عرصے میں ہر چھوٹی بڑی وجہ پر اسکول بند کرنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے—چاہے وہ سردی ہو، اسموگ، بارشیں، یا پیٹرول کی قلت۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف تعلیمی نظام کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان بن رہا ہے۔

مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ تعلیمی فیصلے عوامی پولنگ کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، جہاں والدین اور طلبہ وقتی سہولت کو ترجیح دیتے ہیں اور تعطیلات کے حق میں ووٹ دیتے ہیں، بغیر یہ سمجھے کہ اس کا طویل مدتی نقصان کیا ہوگا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت سنجیدگی سے اس مسئلے کو سمجھے اور بچوں کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کرے۔ کیونکہ اگر آج ہم نے تعلیم کو ترجیح نہ دی، تو کل ہمیں اس کا خمیازہ ایک غیر تعلیم یافتہ نسل کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں