ڈاکٹر فاروق ستار 41

ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کراچی کو تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،فاروق ستار

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے سندھ ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آج ایک نہایت اہم مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں عدالت پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طارق منصور انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن ہیں جنہوں نے کراچی کے ایک اہم مسئلے کو اجاگر کیا ہے، اور ایم کیو ایم پاکستان ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ کراچی پورے ملک کی معیشت کو چلاتا ہے مگر اس کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کراچی کو تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ شہر کی چار کروڑ آبادی طارق منصور کے موقف کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کا ماسٹر پلان 2018 میں تیار کیا گیا تھا اور یہ جوڈیشل کمیشن کے احکامات پر بنایا گیا تھا، جس پر 2030 تک عملدرآمد ہونا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی درخواست کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ گزٹ میں نوٹیفائی ہونے والے ماسٹر پلان پر اب تک کتنا عمل کیا گیا، اس کا جواب دیا جائے۔فاروق ستار نے الزام عائد کیا کہ 2018 کے ماسٹر پلان کو نظر انداز کرکے اب 2047 کا نیا پلان تیار کر لیا گیا ہے تاکہ سابقہ کوتاہیوں اور غلطیوں کو چھپایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی زمینوں کی بندربانٹ جاری ہے اور شہریوں کے بنیادی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور ان کی کابینہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کو جواب دیں کہ 2018 کے ماسٹر پلان پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا۔

انہوں نے دعوی کیا کہ ائیرپورٹ کے لیے مختص 15 ہزار ایکڑ زمین پر بحریہ ٹان قائم کر دیا گیا، جبکہ پاکستان کے پاس یہ موقع تھا کہ دنیا بھر کی پروازیں یہاں آتیں، مگر وہ مواقع دوسرے ممالک خصوصا سنگاپور لے گیا۔فاروق ستار نے کہا کہ اگر آج بھی سنجیدہ رویہ اختیار نہ کیا گیا تو نقصان بڑھتا چلا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست پر سندھ ہائیکورٹ میں بڑی سماعت ہوئی ہے، کیونکہ کراچی کے شہریوں کو بنیادی سہولیات میسر نہیں۔انہوں نے شہر میں ٹریفک حادثات، ٹوٹی سڑکوں اور پانی کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری بیٹیوں کو بے دردی سے گاڑیوں تلے کچلا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی روڈ کی حالت کسی جنگ زدہ علاقے جیسی ہے جبکہ حب کینال کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے جاپانی ادارے جائیکا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے منصوبوں کو نظر انداز کیا گیا جبکہ جہاں کمیشن یا فائدہ نظر آیا وہاں منصوبے منظور کر لیے گئے۔فاروق ستار نے اعلان کیا کہ رواں سال کے آخر تک ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ (ن)کراچی کو پانی فراہم کرنے کے لیے نئی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن سٹی، میڈیا سٹی اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے زمینیں مختص ہونا تھیں مگر ان پر بھی پیش رفت نہ ہو سکی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیب فوری طور پر متحرک ہو اور کراچی کی زمینوں اور منصوبوں سے متعلق انکوائری شروع کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ذمہ داران کو تمام زمینوں کا حساب دینا ہوگا۔فاروق ستار نے کریم آباد انڈر پاس کو حکومت کی کارکردگی کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے سامنے سب کچھ واضح ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں