لندن /ڈربی(رپورٹنگ آن لائن)انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر برائیڈن کارس ڈربی کے ایک نائٹ کلب میں پیش آنے والے واقعے کے بعد پولیس کی جانب سے حراست میں لے لیے گئے، کھلاڑی کو ہتھکڑیوں میں پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق برائیڈن کارس کو پولیس اہلکاروں کے ہمراہ ہتھکڑیوں میں نائٹ کلب سے باہر لے جاتے ہوئے دیکھا گیا، کارس کے ساتھ ان کے ڈرہم ٹیم کے ساتھی میتھیو پوٹس بھی موجود تھے۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ڈربی میں گزشتہ رات پیش آنے والے واقعے سے آگاہ ہیں اور اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، مزید معلومات دستیاب ہونے پر آگاہ کیا جائے گا۔31 سالہ برائیڈن کارس اور میتھیو پوٹس نے ڈربی میں ڈربی شائر کے خلاف کاؤنٹی چیمپئن شپ کے دوسرے ڈویژن کے میچ میں ڈرہم کی نمائندگی کی تھی، جس میں ڈرہم نے 338 رنز سے کامیابی حاصل کی۔کارس انگلینڈ کی جانب سے 14 ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہیں اور 26ـ2025ء کی ایشز سیریز میں انگلینڈ کے نمایاں ترین بولر رہے ہیں جہاں انہوں نے 22 وکٹیں حاصل کیں۔
انہیں پاکستان کے خلاف 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز کے ابتدائی 2 میچز کیلئے انگلینڈ کے اسکواڈ میں شامل کیا گیا تھا تاہم لیڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں انہیں ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان جو روٹ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ ٹیم پر رات کو باہر جانے کے حوالے سے کوئی کرفیو نافذ نہیں ہو گا۔انگلینڈ ٹیم میں کرفیو رواں سال جنوری میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے دوروں کے دوران رات گئے پیش آنے والے متعدد واقعات کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھی تک یہ سرکاری طور پر واضح نہیں ہوا ہے کہ نائٹ کلب میں اصل جھگڑا کس بات پر ہوا، فی الحال یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ کارس نے نائٹ کلب میں کیا کیا تھا۔واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر ویلنگٹن میں وائٹ بال کپتان ہیری بروک بھی ایک نائٹ کلب کے سیکیورٹی اہلکار سے مبینہ جھگڑے میں ملوث ہوئے تھے۔اس سے قبل جون میں لندن کے ایک نائٹ کلب میں سابق ٹیسٹ کپتان بین اسٹوکس اور گس اٹکنسن کے کرفیو کے بعد تک باہر رہنے پر بھی تنازع کھڑا ہوا تھا۔دونوں کو نیوزی لینڈ کے خلاف اوول میں دوسرے ٹیسٹ سے باہر کر دیا گیا تھا۔
جو روٹ نے دوبارہ ٹیسٹ کپتان مقرر ہونے کے بعد کرفیو ختم کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے خیال میں کرفیو مؤثر نہیں ہوتا اور انگلینڈ کے کھلاڑی بالغ ہیں، اس لیے انہیں میدان کے باہر بھی اپنی ذمے داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ ٹیم انتظامیہ کھلاڑیوں کے رویے کی نگرانی اور ذمے داری خود ادا کرے گی۔









