کراچی(رپورٹنگ آن لائن)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنماؤں نے ملک میں آبادی کے تناسب سے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامی یونٹس کا مطالبہ سندھ کی تقسیم یا سندھی عوام کے خلاف نہیں بلکہ اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوام کو بااختیار بنانے کی جدوجہد ہے۔
ایم کیو ایم نے اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ قومی سطح پر مکالمے کا آغاز کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔بہادرآباد کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے، تاہم انتظامی ڈھانچے میں اس تناسب سے تبدیلی نہیں کی گئی۔ ملک میں آبادی بڑھنے کے ساتھ اضلاع اور ڈویڑن تو قائم کیے گئے لیکن نئے صوبے نہیں بنائے گئے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انتظامی مسائل اور عوامی محرومیاں پیدا ہوئی ہیں۔ایم کیو ایم کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر ڈاکٹر مصطفی کمال نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا نام ہے۔ سندھ کی ایک انچ زمین کسی دوسرے صوبے میں شامل نہیں ہوگی، بلکہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے مقامی لوگوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے اور اپنے حکمرانوں کو جواب دہ بنانے کا اختیار ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں سندھ کی تقریباً 38 فیصد آبادی رہتی ہے، لیکن اس کے باوجود شہر طویل عرصے سے بنیادی شہری مسائل اور اختیارات کی کمی کا شکار ہے۔ سندھ کے دیگر علاقوں کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک ہے، جہاں بعض علاقوں میں خواتین کو کئی کئی کلومیٹر دور سے ایسے کنوؤں سے پانی لانا پڑتا ہے جہاں سے جانور بھی پانی پیتے ہیں۔مصطفی کمال نے کہا کہ سندھ کو گزشتہ 18 برس کے دوران تقریباً 22 ہزار ارب روپے کے وسائل ملے، لیکن اتنے بڑے مالی وسائل کے باوجود صوبہ بنیادی سہولیات کے حوالے سے بدترین صورتحال سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ ان کے مؤثر اور منصفانہ استعمال اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک چلانے والوں کو بھی اب اس بات کا ادراک ہوگیا ہے کہ ملک کو بچانے اور نظام کو مؤثر بنانے کا راستہ انتظامی یونٹس کے قیام سے ہوکر گزرتا ہے۔
تین سال قبل آرمی چیف نے بھی انتظامی یونٹس کی ضرورت کی بات کی تھی، بعد ازاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس حوالے سے بات کی اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی اس مؤقف کی تائید کی۔مصطفی کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم نے انتظامی یونٹس کی بات آج سے شروع نہیں کی بلکہ کئی برس سے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور بااختیار بلدیاتی نظام کا مطالبہ کررہی ہے۔ ان کے بقول انتظامی یونٹس قائم ہونے سے سندھ کے کسانوں سمیت عام شہریوں کو بھی اپنے مسائل کے حل اور حکمرانوں کو تبدیل کرنے کا مؤثر اختیار حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں موجودہ انتظامی نظام عوام میں محرومی اور مایوسی پیدا کررہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اختیارات چند ہاتھوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عوام کے قریب لایا جائے تاکہ ہر علاقے کے لوگ اپنے مسائل کے حل میں براہ راست کردار ادا کرسکیں۔
ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان میں مزید انتظامی یونٹس کے قیام کے بغیر پائیدار ترقی اور استحکام ممکن نہیں۔ کراچی ملک کا معاشی دارالحکومت ہے اور ملکی ٹیکس و محصولات میں نمایاں حصہ ادا کرتا ہے، جبکہ پاکستان کی تقریباً 55 فیصد برآمدات کا تعلق بھی کراچی سے ہے، لیکن اس کے باوجود شہر بدترین حکمرانی اور اختیارات کی کمی کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے وسائل اور اختیارات کو چند علاقوں تک محدود رکھنے کے بجائے تمام علاقوں میں منصفانہ تقسیم کیا جانا چاہیے۔ لاڑکانہ، سکھر اور میرپورخاص سمیت مختلف علاقوں کے انتظامی معاملات وہاں کے مقامی لوگ بہتر طور پر چلا سکتے ہیں اور اس طرح عوام کو اپنے وسائل اور فیصلوں پر زیادہ اختیار حاصل ہوگا۔فاروق ستار نے کہا کہ سندھ یا پاکستان کی ترقی کی راہ میں اصل رکاوٹ عوام کی محرومی، غربت، بے روزگاری، مہنگائی، بدحکمرانی اور اختیارات کا ارتکاز ہے۔
انتظامی تقسیم کا مقصد کسی علاقے یا قومیت کو کمزور کرنا نہیں بلکہ عوام کو ان کے حقوق، وسائل اور اختیارات ان کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی جیسے معاشی مرکز کو اس کے جائز حقوق اور اختیارات دیے بغیر ملکی معیشت کو مستحکم نہیں کیا جاسکتا۔ ریاست سے بیگانگی اور محرومی کے احساس کو ختم کرنے کیلئے بہتر حکمرانی، بااختیار مقامی حکومتیں اور مؤثر انتظامی یونٹس وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ایم کیو ایم رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نئے صوبوں، انتظامی یونٹس اور بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام کیلئے آئینی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور اس مقصد کیلئے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے کرکے قومی سطح پر وسیع تر مکالمے کی کوشش کی جائے گی۔









