اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایک بار پھر اس عزم کااعادہ کیا ہے کہ آئین،قانون اور جمہوریت کے فروغ کے لئے اپوزیشن سے بات چیت کے لئے تیار ہیں،دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہماری سکیورٹی فورسز اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہی ہیں،ہمیں اپنی سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا احترام کرنا ہوگا۔
ہفتہ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قائد حزب اختلاف نے جو نکات اٹھائے ہیں،سب کو غور سے سنا ہے،انہوں نے جو نکات اٹھائے ان کاجواب مناسب موقع پر تفصیل سے دیں گے۔اس ایوان کے منتخب ارکان پاکستان کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمیں سب کا احترام ہے،یہ ایوان ایک گھر کی طرح ہے،ہم سب کو پاکستان کو مضبوط بنانے اور تعلقات میں کہیں دراڑ ہے تو اس کو دور کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہے،عزت و احترام کو فروغ دینا ہے،سیاست،نظریات اور سوچ اپنی اپنی ہے لیکن پاکستان ہے تو ہم سب ہیں،اس کے لئے جو بھی قربانی دی جائے وہ کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف نے صوبوں کے وسائل کا معاملہ اٹھایا،صوبوں کے معاشی وسائل ان کا حق ہے،اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے،ریکوڈک معاہدے ایک روشن مثال ہے،بلوچستان کے زعماء سے بھرپور مشاورت سے یہ معاہدہ معرض وجود میں آیا،اس میں بلوچستان کا حصہ سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ پاکستان کی تاریخ کا دسواں ایوارڈ ہے،انہوں نے کہاکہ بلوچستان ایک خوبصورت صوبہ ہونے کے ساتھ ساتھ دلیر لوگوں کی سرزمین ہے،
اس کے حصے میں سو فیصد اضافہ کیا گیا،تمام صوبوں نے اس میں قربانی دی اور پنجاب نےاپنے حصے سے سب سے زیادہ بلوچستان کو دیا۔پنجاب نے 11 ارب روپے بلوچستان کو اپنے حصے سے سالانہ دیئے ہیں۔اگر ہمارے پاس ایک روٹی ہوگی تو ہم مل بانٹ کرکھائیں گے،یہ احسان نہیں ہے یکجہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشی اور معاشرتی انصاف کے بغیر گھر بھی نہیں چلتا۔2 سال پہلے بلوچستان کے کاشتکار کو 70 ارب روپے کی لاگت سے سولر پینلز دیئے،اس میں 50 ارب روپے وفاق نے دیئے.
جو ایثار و بھائی چارے کی مثال ہے،اسی طرح 300 ارب روپے کی لاگت سے گوادر سے چمن دورویہ کیرج وے تعمیر کی جارہی ہے یہ قائد حزب اختلاف کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ بطور وزیراعظم میری ذمہ داری تھی کہ میں وہ اقدامات اٹھائوں کہ جس سے چاروں صوبے ترقی کی دوڑ میں مساوی ہوں۔تاہم اس کے لئے وقت درکار ہے یہ راتوں رات ممکن نہیں،یہ مل کر ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کی وطن کے دفاع کے لئے قربانیاں لازوال ہیں،تین دن قبل ایک ہیلی کاپٹر حادثہ میں 22 افسران و جوان شہید ہوئے،ان میں دو مسیحی بھی شامل تھے،اسی طر ح بلوچستان میں دن رات دہشت گردی کا مقابلہ کررہے ہیں اور اس دہشت گردی میں مالی اور تکنیکی معاونت کے خارجی ہاتھ کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں،بلوچستان میں سرحد پر باڑ اپنی سلامتی کے لئے لگائی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا میں دن رات دہشت گردی ہورہی ہے اور افواج پاکستان دن رات ان کا مقابلہ کررہی ہیں،افسر وجوان شہید ہورہے ہیں اور وہ اپنے بچوں کو یتیم کرکے پاکستان کے کروڑوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچاتے ہیں،ہمیں مل کر ان کی قربانیوں کو عزت و تکریم دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر حادثہ میں شہیدوں کی نماز جنازہ میں شرکت کی تو شہداء کے معصوم بچوں سے بھی ملا جنہیں یہ بھی علم نہیں کہ ان کے والدین شہید ہوگئے۔اب انہیں زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے آج غفلت کی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف اگر جاتی عمرہ کو اپنا گھر سمجھتے ہیں تو میں بھی جب کوئٹہ جاتا تھا تو ان کے گھر جاتا تھا،یہ کوئی پوائنٹ سکورنگ نہیں ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ آئین،قانون اور جمہوریت کے فروغ کے لئے بات چیت کے لئے تیار ہیں،ماضی میں بطور اپوزیشن لیڈر بھی میثاق جمہوریت کی طرح میثاق معیشت کی دعوت دی تاہم اس کا حقارت سے ٹھکرایا گیا ، ہم آج بھی اس کے لئے تیار ہیں








