بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین کے نائب وزیر ماحولیات اور حیاتیات لی گاؤ نے چین کی ریاستی کونسل کے دفتر اطلاعات کے زیر اہتمام پریس کانفرنس میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں چین کے فعال ردعمل کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران، چین مسلسل سبز اور کم کاربن کی ترقی کے راستے پر گامزن ہے اور ملک نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں قابل ستائش نتائج حاصل کیے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اس سال کی پہلی ششماہی میں، چین میں قابل تجدید توانائی کی نصب شدہ صلاحیت 2.455 بلین کلوواٹ تک پہنچی ، جو ملک کی نصب شدہ بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت کا 60.7 فیصد ہے۔ جولائی کے آخر تک، فوٹو وولٹک پاور جنریشن کی صلاحیت نے ریکارڈ قائم کیا اور کوئلے سے بننے والی بجلی کو پیچھے چھوڑ کر بجلی کی پیداوار کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی ہے۔ آپریشننل اور زیر تعمیر جوہری توانائی کے یونٹس کے پیمانے کے لحاظ سے چین دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔
چین مسلسل 11 سالوں سے نئی توانائی کی گاڑیوں کی تیاری اور فروخت میں دنیا میں سرفہرست رہا ہے۔ چین ،دنیا کی سب سے بڑی اور مکمل صاف توانائی کی صنعتی چین قائم کر چکا ہے ، اور سبز اور کم کاربن والی صنعتیں اقتصادی ترقی کے لیے ایک اہم انجن بن چکی ہیں۔ اس کے علاوہ، ماحولیاتی اورحیاتیاتی تحفظ کے رواں سال جاری ہوانے والے ضابطے میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی باب رکھا گیا ہے ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ چین کے قانون میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مخصوص انتظامات کیے گئے ہیں۔ چین نے کاربن کے اخراج کی دنیا کی سب سے بڑی قومی تجارتی مارکیٹ قائم کی ہے ، اورپورے معاشرے میں سبز اور کم کاربن کے حوالے سے لوگوں کے شعور میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔








