کراچی (رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائی کورٹ نے چڑیا گھر اور سفاری پارک اور کورنگی اور لانڈھی زو کی انٹری فیسوں کے 3 سالہ ٹھیکوں کیخلاف درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 3 دسمبر کو جواب طلب کرلیا۔
سندھ ہائیکورٹ میں چڑیا گھر اور سفاری پارک اور کورنگی اور لانڈھی زو کی انٹری فیسوں کے 3 سالہ ٹھیکوں کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ دراکواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ کے ایم سی نے 2020 اور 2021 میں 3 اخبارات میں ٹینڈر جاری کیئے۔ ٹینڈرز میں سفاری پارک و چڑیا گھر کی پارکنگ اور خوبصورتی کے منصوبوں کا ذکر شامل تھا۔ آن لائن جاری فارم میں غلط طور پر کراچی زو انٹرنس اور پارکنگ فیس کو الگ آئٹم بنا دیا گیا۔ یہ آئٹم اصل ٹینڈر کے مطابق خوبصورتی کے منصوبے میں شامل نہیں تھا۔
ٹھیکے کی مدت ایک سال ہونی چاہیے تھی مگر اسے 3 سال کر دیا گیا۔ 3 سالہ مدت نیلامی رولز 2016 کیخلاف ہے۔ یہ اقدام بدنیتی پر مبنی اور من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے کی کوشش ہے۔ اس عمل سے شفافیت کا عمل متاثر ہوا اور دیگر بولی دہندگان کو نقصان پہنچا۔ عدالت نے کے ایم سی کو آئندہ سماعت تک اس حوالے سے کوئی بھی بولی منظور کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 3 دسمبر کو جواب طلب کرلیا۔









