بشری بی بی 69

پشاور ہائیکورٹ سے بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت منظورہوگئی

پشاور(رپورٹنگ آن لائن) پشاور ہائیکورٹ نے مقدمات کی تفصیلات فراہمی کیس میں بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی، عدالت نے 14 روز تک کسی بھی مقدمے میں بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا بھی حکم دیا۔مقدمات کی تفصیلات فراہمی کے کیس میں بشریٰ بی بی کی درخواست پر سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس شکیل احمد اور جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے کی ، سینئر قانون دان قاضی انور ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل اور بشریٰ بی بی بھی عدالت میں موجود رہے۔

وکیل بشریٰ بی بی نے عدالت کو بتایا کہ چاروں صوبوں میں بشری بی بی کے خلاف مقدمات درج ہیں، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ خیبرپختونخوا میں تو کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا ہوگا؟ایف آئی اے، اینٹی کرپشن ،نیب اور دیگر اداروں میں درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائے۔عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ہم بس دوسرے صوبوں کے لیے بیل دے سکتے ہیں؟ جس پر وکیل بشریٰ بی بی نے کہا کہ عدالت سے اگر کوئی حفاظت مانگے تو عدالت ضمانت دے سکتی ہے۔عدالت نے کہاکہ سمجھایا جائے کیا باقی صوبوں کے لیے عدالت ضمانت دے سکتا ہے؟ جس پر وکیل بشریٰ بی بی نے کہا کہ آپ نے پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کے لوگوں کو راہداری ضمانت دی ہے۔

عدالت نے بشری بی بی کی راہداری ضمانت منظور کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے مقدمات کی تفصیلات مانگ لی ، درخواست گزار کے خلاف درج کسی بھی مقدمے کی تفصیلات فراہم کی جائے جبکہ عدالت نے 14 روز تک کسی بھی مقدمے میں اہلیہ بانی پی ٹی آئی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔بعدازاں بشریٰ بی بی نے راہداری ضمانت کی درخواست واپس لینے کا فیصلہ کیا، ترجمان بشریٰ بی بی کاکہنا تھا کہ حفاظتی ضمانت ملنے کے بعد راہداری کی ضرورت نہیں، تمام مقدمات میں حفاظتی ضمانت مل چکی ہے، بشریٰ بی بی ضمانت ملنے کے بعد ہائیکورٹ سے روانہ ہوگئیں۔وکیل بشریٰ بی بی نے عدالت کو بتایا کہ چاروں صوبوں میں بشری بی بی کے خلاف مقدمات درج ہیں، مقدمات معلوم نہیں، تفصیل فراہم کرکے گرفتار نہ کیا جائے۔

جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ میرا خیال ہے خیبرپختونخوا میں کوئی مقدمہ نہیں ہوگا، جس پر وکیل بشری بی بی کا کہنا تھا کہ جی خیبرپختونخوا میں نہیں، اس لیے یہاں آئی ہیں۔جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ کا کہنا تھا کہ اگر یہاں کوئی کیس نہیں تو کیا ہم حفاظتی ضمانت دے سکتے ہیں، جس پر وکیل بشری بی بی نے مؤقف اپنایا کہ قانون اور آئین ہر شہری کو تحفظ کا یقین دلاتا ہے، پشاور ہائیکورٹ نے پہلے بھی حفاظتی ضمانتیں دی۔بعدازاں عدالت نے نیب، ایف آئی اے سمیت تمام اداروں سے بشریٰ بی بی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیل طلب کرتے ہوئے ان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔پشاور ہائیکورٹ نے عدالت نے 14 روز تک کسی بھی مقدمے میں اہلیہ بانی پی ٹی آئی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں