لاہور(زاہد انجم سے)پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسرڈاکٹر محمد الفرید ظفر عید الفطر کی صبح عمرہ ادائیگی سے واپسی پر لاہور جنرل ہسپتال پہنچ گئے جہاں انہوں نے مریضوں و لواحقین ا ور ہیلتھ پرفیشنلز سے ملاقات کی اور اُن کی خیریت دریافت کی۔
اپنی گفتگو میں پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ آپ سے عید کی خوشیاں بانٹنے آیا ہوں اور آپ لوگوں سے مل کر بے حد خوشی محسوس ہوئی ہے۔پروفیسر الفرید ظفر نے عید کے پر مسرت موقع پرمٹھائی بھی تقسیم کی جبکہ ایک مریض بچے نے پرنسپل سے عید ی کی فرمائش کر ڈالی جس پرپروفیسر الفرید طفر نے مسکراتے ہوئے پیار سے بچے کو نقدی تھمائی جس پر مریض بچے کے والدین نے دعائیں دیں۔ اس موقع پر پرنسپل پی جی ایم آئی نے خود ہسپتال آنے والے مریضوں کا طبی معائنہ بھی کیا جس سے ڈاکٹرز و پیرا میڈیکس کا حوصلہ مزید بلند ہوا۔
پروفیسر الفرید ظفر نے خواتین سٹاف کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ عید کی خوشیاں مریضوں کے ساتھ منانے والے ہیلتھ پروفیشنلز کو خراج تحسین پیش کیا اور نہیں مبارکباد دی۔انہوں نے ہسپتال کے تمام شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا جبکہ حکومت پنجاب کی پالیسی اور صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کی رہنمائی میں ایمرجنسی سمیت تمام وارڈز میں طبی عملے کی حاضری اور علاج معالجہ کی فراہمی کے لئے بہترین انتظامات کرنے پر تمام شعبوں کے پروفیسر صاحبان اور ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر ندرت سہیل کی تعریف کی۔
پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر نے طب سے وابستہ افراد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تکلیف میں مبتلا اور زخموں سے چُور مریضوں کے دلوں سے نکلی ہوئی دعائیں ڈاکٹرز اورنرسز کا مقدر بدلنے کا وسیلہ ثابت ہوتی ہیں،پریشانی کی حالت میں ہسپتال آنے والے افراد کے دکھ درد کم اور اُن کے زخموں پر مرحم رکھنے کے لئے خلوص نیت سے کوشش کرنی چاہیے کیونکہ دین اسلام میں بھی دکھی انسانیت کی خدمت اور زندگی بچانا سب سے عظیم مرتبہ قرار دیا گیا ہے۔مریضوں کے لواحقین نے خوشگوار حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کے سربراہ پروفیسر الفرید ظفر اور اُن کی ٹیم نے عید کی خوشیاں اپنے اہل خانہ کے ساتھ منانے کی بجائے مریضوں کی خدمت کو ترجیح دے کر اپنے حلف کی پاسداری کا وعدہ نبھایا ہے جن کی خدمات کو پیسوں سے بھی نہیں تولا جا سکتا ہے اوران کا صلہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی دے سکتی ہے۔اس موقع پر اے ایم ایس ڈاکٹر عرفان عزیز، ڈاکٹر عبدالعزیز ودیگر ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔








