ورلڈ بینک 12

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: توانائی اور خوراک مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے، عالمی بینک

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہونے اور خوراک سمیت مختلف اجناس کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ پاکستان میں مالی سال 2026-27 کے دوران کپاس کی پیداوار 6 فیصد کم ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ اجناس کی قیمتوں سے متعلق رپورٹ کموڈیٹی آؤٹ لک کے مطابق 2026 کے دوران عالمی اجناس کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 23 فیصد اضافے کا امکان ہے، رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ توانائی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں 2026 میں مجموعی طور پر 32 فیصد بڑھ سکتی ہیں، جبکہ برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 91 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ہے، اسی طرح عالمی منڈیوں میں خوراک کی قیمتوں میں بھی سال کے دوران 10 فیصد اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

عالمی بینک نے مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں 6 فیصد کمی کی پیش گوئی کی ہے، رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر کپاس کی پیداوار بھی 3 فیصد کم ہونے کا امکان ہے۔

کپاس پیدا کرنے والے دیگر بڑے ممالک میں چین کی پیداوار 6 فیصد اور امریکا کی پیداوار 3 فیصد گھٹنے کی توقع ہے، جبکہ برازیل اور بھارت میں کپاس کی پیداوار میں ایک، ایک فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2027 کے دوران عالمی اجناس کی قیمتوں میں 7 فیصد کمی ہوسکتی ہے، اس عرصے میں برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہوکر اوسطاً 79 ڈالر فی بیرل تک آنے کا امکان ہے، قیمتوں میں مجموعی کمی کے باوجود 2027 میں عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں مزید 7 فیصد اضافے کا خدشہ برقرار ہے۔

عالمی بینک کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس سے توانائی کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے، دوسری جانب روس یوکرین جنگ کے باعث بحیرۂ اسود کے راستے زرعی اجناس کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔رپورٹ میں ال نینو کے ممکنہ اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے، جس کے باعث زرعی پیداوار کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

عالمی بینک کے مطابق توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات عالمی معیشت پر مرتب ہوسکتے ہیں، جبکہ مہنگی توانائی اور غذائی اجناس دنیا کے مختلف ممالک میں مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں