اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کی کال واپس لینی چاہیے، لانگ مارچ اور انتشار کسی مسئلے کا حل نہیں، مذاکرات سے معاملات طے ہو سکتے ہیں۔
پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا ء اللہ نے کہا کہ جو معاملات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، ان کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے اور جو معاملات مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر طے ہو سکتے ہیں، ان پر بات ہونی چاہیے ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ آپ وزیرِ اعظم کو خط لکھیں لیکن ان سے ملاقات نہ کریں، آپ سڑک کنارے درخت کے نیچے بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں لیکن وزیرِاعظم آفس میں ملاقات نہیں کر سکتے، اس قسم کی گفتگو سیاسی رواداری اور روابط کو نقصان پہنچاتی ہے۔
(ن )لیگی رہنما نے کہا کہ عدالت جو حکم کرتی ہے، اس پر خود عمل درآمد کرواتی ہے، معاملہ عدالت میں زیرِ التوا ہے، عدالت جو فیصلہ کرے گی اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سینئر ڈاکٹرز کے پینل نے ان کا معائنہ کیا، مقصد بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ تھا، انہیں نجی ہسپتال نہ سہی، دوسرے ہسپتال منتقل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اصل معاملہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کا تھا، جس کے لیے انہیں ہسپتال لے جایا گیا، عدالت مزید واضح حکم دیتی ہے تو حکومت اس کے حکم کو ماننے کی پابند ہے۔









