شیر افضل مروت 53

علیمہ خان وراثت سنبھالنا چاہتی ہیں لیکن ہاتھ کچھ نہیں آئیگا’ شیر افضل مروت

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پارٹی کی موجودہ حکمت عملی، تنظیمی ڈھانچے اور قیادت کے فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اندرونی اختلافات، غیر موثر تنظیمی فیصلوں اور کمزور سیاسی حکمتِ عملی کے باعث کمزور ہو چکی ہے۔ایک انٹر ویو میں شیر افضل مروت نے دعوی کیا کہ پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کا عمل محدود ہو گیا ہے جس کے باعث سیاسی جدوجہد اور احتجاجی سیاست متاثر ہوئی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض غیر منتخب افراد کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے جماعتی معاملات پر منفی اثر ڈالا۔شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی اس حد تک کمزور ہو چکی ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کے دوران موثر سیاسی مہم چلانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ پارٹی قیادت کو خیبرپختونخوا ہ سمیت دیگر علاقوں سے کارکنوں کو متحرک کر کے ایک بھرپور انتخابی مہم چلانی چاہیے تھی۔انہوں نے گلگت بلتستان کے انتخابات اور بعض رہنمائوں کو درپیش رکاوٹوں کو بھی پارٹی کی کمزور تنظیمی صورتحال کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ جماعت کو زمینی سطح پر زیادہ مثر سیاسی سرگرمیوں کی ضرورت ہے، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا ہ کے براہ راست زمینی رابطے ہونے کے باوجود قیادت کے نہ پہنچنے پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

انہوںنے کہا کہ تین مرتبہ عمران خان کی رہائی کا موقع ملا لیکن اسے ضائع کیا گیا ، عمران خان کی بہن علیمہ خان وراثت سنبھالنے کے چکر میں ہیں لیکن پارٹی رہے گی بھی تو ان کے ہاتھ میں کیا آئے گا۔شیر افضل مروت نے یہ بھی دعوی کیا کہ انہوں نے مختلف مواقع پر پارٹی کو منظم احتجاجی ڈھانچہ دینے کی کوشش کی تاہم ان کی تجاویز پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی کو متحد، متحرک اور منظم کرنا مقصود ہو تو تنظیمی سطح پر فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔

سابق پی ٹی آئی رہنما نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ جماعت کی موجودہ صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی روایت کو فروغ دیں تاکہ پارٹی کو دوبارہ موثر سیاسی قوت بنایا جا سکے۔شیر افضل مروت نے کارکنوں کے نام اپنی اپیل میں کہا کہ اگر وہ واقعی جماعت کو متحد، متحرک، منظم اور قید رہنمائوں کی رہائی کے لیے موثر عوامی تحریک چلانا چاہتے ہیں تو انہیں صرف تین ماہ کے لیے جماعت کی تنظیمی کمان دی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں