سعید غنی 6

سیاسی مفاد کیلئے کراچی میں تعصب کو ہوا دینے کی سازش کی جارہی ہے، سعید غنی

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کچھ لوگ اپنی سیاسی دکان چمکانے کیلئے ایک بار پھر کراچی اور سندھ میں تعصب کو ہوا دینے کی کوشش کررہے ہیں، ہمیں مل کر ایسی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔سہراب گوٹھ بزنس کمیونٹی کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ ماضی میں کراچی میں لوگوں کی گردنیں صرف اس بنیاد پر کاٹی گئیں کہ وہ پختون، سندھی، پنجابی یا اردو بولتے تھے۔

لسانی تعصب کی وجہ سے شہر میں امن و امان تباہ ہوا اور ترقی کا سفر رک گیا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہر، صوبے اور ملک کی ترقی کیلئے امن و امان کا قیام ضروری ہے۔ سیاسی اور نظریاتی اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن انہیں بنیاد بنا کر ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور تشدد کو فروغ دینا کسی صورت درست نہیں۔سعید غنی نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے مسائل سنے اور ان کے حل کیلئے اقدامات کرے۔ سندھ حکومت نے سہراب گوٹھ میں ٹاؤن کے فنڈز کے علاوہ اربوں روپے کے میگا منصوبے دیے ہیں، جن پر کام جاری ہے۔

پانی اور سیوریج کے مسائل کے حل کیلئے وزیر بلدیات اور واٹر بورڈ حکام سے بھی بات چیت جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے رواں سال تمام صوبوں کے ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی کی گئی اور سندھ کو 260 ارب روپے کم ملے ہیں، جس کے باعث رواں مالی سال بجٹ میں نئی ترقیاتی اسکیمیں شامل نہیں کی جاسکیں، تاہم زیر التوا منصوبوں پر کام جاری ہے۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ سہراب گوٹھ کی آبادی کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ابوالحسن اصفہانی برج کی اسکیم منظور کرلی گئی ہے، جس پر جلد کام شروع کیا جائے گا اور اسے جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

تقریب سے پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری سینیٹر سید وقار مہدی، عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید، پیپلز پارٹی ضلع شرقی کے صدر اقبال ساند، سہراب گوٹھ ٹاؤن کے چیئرمین لالہ رحیم، حاجی نثار علی، حاجی اصغر، مولانا لطیف برنی اور حاجی گل شیر سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔سینیٹر سید وقار مہدی نے کہا کہ سہراب گوٹھ کی کاروباری برادری کے مسائل کے حل کیلئے سندھ حکومت تمام وسائل بروئے کار لائے گی اور ضرورت پڑنے پر وفاق اور سینیٹ میں بھی آواز اٹھائی جائے گی۔ انہوں نے ایم نائن سے منسلک سروس روڈ اور گرین بیلٹ کی تعمیر میں وفاقی حکومت اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں